سابق گورنرستیہ پال ملک کے بیان پر میڈم مفتی برہم، مقدمہ کرنے کی دھمکی

356

 

 کور بصرمحبوبہ

 مفتی نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ سنجوان میں راشد ملک کا محل نما گھر دراصل پی ڈی پی کا حقیقی دفتر ہے

 جب یو ٹی انتظامیہ حرکت میں آئی تومفتی ، اور میڈم مفتی کی ہورڈنگز کو ہٹا دیا گیا سنجوان میں PDP آفس 3 کنال سے زیادہ مقبوضہ اراضی پر ہے۔

 بسمہ نذیر

جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے حال ہی میں اس وقت ایک ’دھماکہ ‘کیاجب انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی جموں ضلع کے سنجوان علاقے میں غیر قانونی طور پر سرکاری زمین پر قبضہ کر رہی ہیں۔ ایک حالیہ انٹرویو میں، سابق گورنر نے کہا کہ محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر اسٹیٹ لینڈ (قابضین کو ملکیت کے حقوق) ایکٹ 2001 کا فائدہ اٹھایا تھا، جسے روشنی ایکٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

متنازعہ اور تکلیف دہ بیانات دینے کے لیے مشہور ملک نے کہا کہ محبوبہ مفتی نے جموں میں سرکاری زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔ محبوبہ مفتی نے سابق گورنر کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انہیں قانونی نوٹس بھیجا تھا۔ قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سابق گورنر کا بیان غلط اور ہتک آمیز تھا، جس کا مقصد “ان کی سیاسی طور پر صاف شبیہ کو داغدار کرنا تھا۔”محبوبہ نے بتایا کہ جموں میں ان کا دفتر گاندھی نگر کے ایک سرکاری گھر میں کام کر رہا ہے، جسے حکومت نے ان کے نام پر کرائے پر دیا ہے۔

گاندھی نگر میں پی ڈی پی کا دفتر: محبوبہ مفتی نیم سچ کی آڑ لے رہی ہے

محبوبہ کا بیان نیم سچ کیوں؟ کیونکہ سنجوان میں پی ڈی پی کاعملا ایک دفتر ہے جو گاندھی نگر میں پارٹی دفتر سے زیادہ مقبول رہا ہے۔نومبر 2020 کے آخری ہفتے تک، پی ڈی پی کا جھنڈا سنجوان کے اس محل نما گھر پر بلند ہوا کرتا تھا، جو کہ تقریباً 1500 مربع میٹر کے تین کنال کے پلاٹ پر بنایا گیا تھا۔ مرحوم مفتی محمد سعید اور محبوبہ مفتی کے قدم آدم اشتہاری ہورڈنگز گھر کی چاردیواری پر دیکھے جا سکتے تھے۔ یہ دفتر دراصل پی ڈی پی لیڈر رشید ملک عرف شیدا سرپنچ کی رہائش گاہ ہے۔

پورا پلاٹ مقبوضہ سرکاری اراضی پر مشتمل ہے جس پر راشد ملک نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ گھر کی تعمیر شاندار ہے، اور گھر کا فرش راجستھان کے مہنگے سنگ مرمر میں ہے۔

راشد ملک کون ہے؟

راشد ملک PDP کے ریاستی سیکرٹری اور جموں خطے میں PDP کے نمایاں چہروں میں سے ایک تھے۔ریونیو حکام کے مطابق اکیلے راشد ملک نے سنجوان اور ملحقہ علاقوں میں 1300 کنال سے زائد ریاستی اور جنگلات کی زمین ہتھیا لی ہے۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ملک،ارضی کا عنوان تبدیل کرنے کا جو مطالبہ کرتے وہ ان افسران کو اس سے زیادہ کی پیشکش کرتا ،ملک اکثر ذکر کیا کرتے تھے کہ چند سال پہلے وہ ایک غریب تعمیراتی مزدور تھا،جو کندھوں پر پتھر اور اینٹیں ڈھونے کا کام کرتا تھا۔ راشد ملک کا تعلق جموں کے گاؤں چٹھا سے ہے۔یہ اراضی پر غاصبانہ اور ناجایز قبضے کی دین ہے کہ ملک کی نجی دولت اب اربوں میں ہے ۔جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے پی ڈی پی قائدین یا تو رہائشی پلاٹ تحفہ کے طور پر حاصل کرنے یا دیگر مالیاتی امور کے لیے ملک سے ملاقات کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ راشد ملک پی ڈی پی میں اپنے انتہائی فراخدلانہ عطیات کے لیے جانے جاتے تھے۔

پی ڈی پی لیڈران سنجواں آفس میں ملک کی نظر عنایت کیلئے صف بستہ رہتے

ملک کا پی ڈی پی میں اثر و رسوخ ا س قدر تھا کہ پی ڈی پی قائدین پارٹی کے سنجوان دفتر میں اک نظر کرم کے لئے جوق در جوق اور قطار درقطار ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ۔ جن لوگوں کو راشد ملک نے رہائشی پلاٹ دیئے تھے ان میں پی ڈی پی کے سینئر لیڈر عبدالرحمن ویری، عبدالغفار صوفی اور دیگر شامل ہیں۔واضح رہے کہ سنجوان میں پی ڈی پی کا دفتربرلب سڑک ہے اور یہ ۔ یہ پرانے سنجوان گاؤں سے تقریباً 600 میٹر کے فاصلے پر ہے۔

جموں کے مضافات میں اراضی پر قبضوں کی لمبی کہانی ہے یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب بہت سے کشمیری عسکریت پسند ،جنہوں نے ہتھیار ڈال دیے تھے اپنی جان بچانے کے لیے جموں چلے گئے تھے تاکہ وہ دوسرے متحارب عسکریت پسندوں کے ہاتھوںشکار بننے سے بچ سکیں ۔ ایسے عسکریت پسند کشمیر چھوڑنے کے لیے بے چین تھے کیونکہ اس وقت بہت سے ہتھیار ڈالنے والے عسکریت پسندوں کو سرگرم عسکریت پسندوں نے ہلاک کر دیا تھااور جو باقی بچ گئے تھے وہ جان بچانے کی فکر میں جموں میں پناہ ڈھونڈ رہے تھے ۔اور اس کے لئے جموں میں اپنا علیحدہ گھر بناناچاہتے تھے ۔اسی طرح کشمیر کے بہت سے دوسرے لوگ وادی کے علاوہ جموں میں بھی ایک گھر چاہتے تھے۔اسی دوران کشمیری پنڈتوں کی جبری ہجرت بھی ہوئی تھی۔ انتظامیہ جموں میں بے گھر پنڈتوں کی نقل مکانی اور باز آباد کاری میں مصروف تھی۔ادھر کشمیری ہتھیار ڈالنے والے عسکریت پسند جو جموں منتقل ہو گئے تھے وہ جموں میں ایسی جگہوں کی تلاش کر رہے تھے جہاں مقامی مسلمآبادی  اکثریت میں ہوں اور سنجوان ان کے لیے بہترین اور موزوں جگہ بن گیا۔

سنجوان کی بنجر زمین ریاست کی ملکیت تھی اور آہستہ آہستہ مقامی لوگوں نے ان زمینوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے ان زمینوں کوان کشمیری عسکریت پسندوں کو بیچ ڈالا جنہوں نے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ ایک دہائی کے اندر کشمیر کے مسلمانوں نے اس مقبوضہ ہ سرکاری اراضی کو  خریدا اور یہاں مکانات بنائے۔اس طرح اگلے دس برس میں جموں کے سنجوان، نوآباد اور بٹھنڈی علاقے متوسط طبقے کے عام کشمیریوں کے لیے پسندیدہ  بستیاں بن گئیں۔ وہ وادی میں اپنی رہائش کے علاوہ جموں میں زمین خریدنے اور مکان بنانے کے لیے یہاں آئے اور یوں یہاں پر بستیاں تعمیر ہونے لگی۔

 

چونکہ راشد ملک سرپنچ بھی تھا اور علاقے کا طاقتور آدمی بھی مانا جاتا تھا وہ علاقے میں بااختیار بن گیا اورمقامی آبادی کو سرکاری اراضی پر قبضہ کرنے میں مدد بھی کرنے لگا ، خود ملک نے پہل کرکے علاقے میں کئی سو کنال اراضی پر ناجائز قبضہ کیا اور یوں بھی دلال بن گیا اوراس غیر قانونی قبضہ شدہ زمین کو بیچنے لگا

ملک نے 2004 میں پی ڈی پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس سے پہلے وہ نیشنل کانفرنس میں تھے۔ ملک 2008 میں نگروٹا حلقہ سے پی ڈی پی کے امیدوار تھےتاہم وہ مذکورہ اسمبلی انتخابات ہار گئے۔

ملک، مفتی محمد سعید اور محبوبہ مفتی کی طاقت کا حصہ تھے۔ اس نے سنجوان میں زمین ہتھیا لی اور وہاں اپنا گھر بھی بنا لیا جو پی ڈی پی کے دفتر کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔دراصل مذکورہ زمین  ایک برساتی نالہ تھاتاہم راشد ملک نے پی ڈی پی کے جھنڈے تلے اورپارٹی دفتر کے آڑ میں، ملک نے قبضہ شدہ اراضی پر ایک شاندار مکان تعمیر کیا۔ ملک الیکشن ہار گئے تھے۔ لیکن چونکہ وہ ایک امیر آدمی تھے اس لیے انہیں پی ڈی پی میں اچھا عہدہ دیا گیا تھا۔

جموں وکشمیر انتظامیہ نے نومبر 2020میں کہا کہ پی ڈی پی دفتر قبضہ شدہ زمین پر بنا ہے ۔

 

25 نومبر 2020 کو جموں کے ڈویژنل کمشنر نے ایسے سات مستفید ین کی فہرست جاری کی جنہوں نے زمین پرطبعی طور پر قبضہ کیا تھا لیکن اسے ریونیو ریکارڈ میں ظاہر نہیں کیا گیا۔ جموں و کشمیر انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ فہرست میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کا دفتر جموں کے سنجوان علاقے میں غیر قانونی طور پر تین کنال اراضی پر واقع ہے۔ اس وقت بھی پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی تھی۔ اس نے دعویٰ کیا تھا کہ مذکورہ احاطے کو کرائے پر لیا گیا تھا۔

کیا سابق گورنر ستیہ پال ملک ویڈیو میں راشد ملک کا حوالہ دے رہے تھے؟

 

آج کل  وائرل ہونے والی ویڈیو میں، سابق گورنر ستیہ پال ملک روشنی ایکٹ کے ذریعے زمین پر قبضے کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ اس تقریر کے دوران، سابق گورنر نے کہا، “محبوبہ کے آدمی کو تو دیر ہی نہیں لگتی قبضہ کرنے میں ۔ وو تو ایک کھونٹاگھاڑ کر بھینس کو باندھ لیتا ہے اور کہتا ہے یہ میری زمین ہے۔

ستیہ پال ملک نے راشد ملک کا نام نہیں لیا۔ لیکن لوگوں کو یہ بات سمجھنے میں دشواری نہیں ہوئی کہ وہ راشد ملک کا حوالہ دے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ پی ڈی پی میں شامل لوگوں نے اعتراف کیا کہ سابق گورنر بظاہر رشید ملک کا حوالہ دے رہے تھے۔ پی ڈی پی کے کچھ لیڈروں نے تبصرہ کیا کہ ملک نے سنجوان میں ایک پلاٹ پر گائے اور بھینسیں رکھنی ہیں، اس لیے شاید گورنر اس طرز عمل کا حوالہ دے رہے تھے۔

سرخی

راشد ملک کی طرف سے زمین خواری

ملک نے جموں و کشمیر میں پی ڈی پی کی حکومت بنانے کے بعدزمین خوری میں شدت لائی

2008 کے بعد، ملک جموں کے مضافات میںحدود شکنی میں بہت آگے چلا گیااور اُس نے سنجوان میں ہزاروں کنال اراضی پر قبضہ کیا۔یہی نہیں بلکہ پٹوار حلقہ سنجوان سے سنجواؓ برمانی روڈ کےقریب تقریباً 150 سے 200 کنال کے ایک پورے نالے پر بھی قبضہ کر لیا ۔ملک نے انٹرنیشنل دہلی پبلک اسکول سنجوان کے قریب بھی تقریباً 100 کنال سرکاری اراضی پر قبضہ کیا اس کے علاوہ مذکورہ شخص نے انٹرنیشنل ڈیلی رائزنگ سکول کے قریب تقریباً 85 کنال اراضی پر بھی قبضہ کر لیا۔

ملک نے چاوڈھی گاؤں کے بالائی چاوڈھی علاقے میں 95 کنال جنگلاتی اراضی ہتھیا لی۔ اسے جموں کے بڑے جنگلاتی اراضی پر قابضوں میں شامل کیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک اور اس کے بیٹے ذوالفقار ملک نے جنگلات کی 36 کنال اور ایک مرلہ اراضی پر قبضہ کر رکھا ہے۔

یہاں کی زمین پر قبضہ کرنے کے بعد ملک نے یہ غیر قانونی قبضہ شدہ زمین کروڑوں روپے میں فروخت کردی۔ ملک اب ارب پتی ہیں۔ اس کے پاس اب بھی مذکورہ  زمین ہے جس پر وہ غیر قانونی اور غیر مجازی طور پر قابض ہے۔ ملک نے اس زمین پر تین مکانات اور کچھ کثیر المنزلہ کمرشل کمپلیکس بنائے۔پیسوں کی قلت کبھی آڑے نہیں آئی اور یوں  ملک نے علاقے میں بہت سی تجارتی جگہیں خریدیں۔

چونکہ ڈی پی اقتدار میں تھی، کسی نے ملک سے اس کے ناجائز قبضےکے بارے میں نہیں پوچھا۔ بعد میں ملک کے خلاف اگست 2019 میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت زمین پر غیر قانونی قبضے، لوگوں کو دھمکیاں دینے اور قتل کی کوشش کے معاملے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

راشد ملک کے خلاف تریکوٹہ نگر پولیس اسٹیشن میں کئی ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ ان میں 313/97 u/s 447/353/147/336 RPC شامل ہے جو مجرمانہ تجاوز کے لیے قابل سزا جرم ہے۔ 185/2000/u/s 384/147 RPC; 114/2001 u/s 341/323/336/147/148 RPC؛ 255/2002 u/s 341/353 RPC؛ 182/2008 u/s 447. A, RPC; 45/2015 U/S 447/323 rpc; 204/2015 U/S 307/341/427/323/147/148 RPC؛ 110/18 u/s 447. A. RPC 6/39 F ایکٹ؛ 25/19 U/S 341/336/323/147/148 RPC۔

سنجوان میں PDP دفتر کا افتتاح مرحوم مفتی محمد سعید نے کیا تھا۔ افتتاحی تقریب میں پارٹی کے اہم رہنما موجود تھے۔

محبوبہ مفتی اب دعویٰ کر سکتی ہیں کہ سنجوان میں پی ڈی پی لیڈر راشد ملک کا محل نما گھر پارٹی دفتر نہیں تھا۔ وہ یہ موقف اختیار کر سکتی ہیں کہ پی ڈی پی لیڈر ہونے کے ناطے راشد ملک نے رضاکارانہ طور پر بڑے ہورڈنگز لگائے تھے۔ وہ  یہ بھی کہہ سکتی ہیں کہ یہ جگہ راشد ملک کا گھر ہے، اور پارٹی کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا کہ یہ گھر غیر قانونی طور پر قبضے کی زمین پر بنایا گیا تھا یا نہیں۔ یہ سب حقیقتاً درست ہو سکتا ہے۔

لیکن یہ علاقہ اور پی ڈی پی میں بھی ایک جانی مانی حقیقت تھی کہ سنجوان میں راشد ملک کا گھر پی ڈی پی کا اصل دفتر تھا۔ یہ گھر جسے پی ڈی پی دفتر کے نام سے جانا جاتا ہےاور جس کا افتتاح خود مرحوم مفتی محمد سعید نے کیا تھااس موقع پر منعقدہ تقریب میں پارٹی کے اہم رہنما موجود تھے۔پارٹی کارکنوں کا کہنا ہے کہ “سنجوان پی ڈی پی آفس” پر مفتی سعید اور محبوبہ کے بڑے ہورڈنگز کو نومبر 2020 کے آخری ہفتے میں جموں و کشمیر انتظامیہ کے ذریعہ زمین پر غیر قانونی قابضوں کی فہرست جاری کرنے کے بعد ہٹا دیا گیا تھا۔

منیر وازہ – سنجوان میں راشد ملک کادلال

 خطے میں پولیس اور سول انتظامیہ سے مفتی خاندان نے مفتی محمد سعید کے بیٹے کے طور پر متعارف کرایا تھا۔

منیز وازہ، جو آج جموں کا ایک امیر زمیندار ہے ، وازہ محبوبہ مفتی کے آبائی قصبہ بجبہاڑہ کا ایک غریب نوجوان تھا۔ وہ مفتی خاندان کے قریب تھے۔ اپنی جوانی کے سالوں میں بھی، منیر کو پی ڈی پی حلقوں میں ایک مکمل منصوبہ ساز کے طور پر جانا جاتا تھا۔2008 میں، منیر وازہ کو جموں کے علاقے میں پولیس اور سول انتظامیہ میں مفتی خاندان نے مفتی محمد سعید کے بیٹے کے طور پر متعارف کرایا تھا۔منیر کو بعد میں راشد ملک نے گود لیا تھا۔ اس وقت تک راشد ملک جموں میں ایک بڑے زمین ہتھیانے والے کے طور پر بدنام ہو چکا تھا۔ راشد ملک نے مفتی سعید کو پارٹی فنڈ کے طور پر کروڑوں روپے دیے تھے۔ منیر وازہ اور راشد ملک نے مل کر سنجوان اور بھٹنڈی میں جنگلات کی 2500 کنال سے زائد اراضی پر قبضہ کیا اور بعد میں اس زمین کو کالونیاں بنانے میں سہولت فراہم کی۔

وازہ کا تعارف ملک سے مفتی محمد سعید کے پرائیویٹ سیکرٹری ایم کے دھر نے کرایا تھا۔ منیر نے سینکڑوں کشمیریوں کو دھوکہ دیا جنہوں نے ملکیتی اراضی کے نام پر ریاستی اور جنگلات کی زمین خریدی۔ منیر لوگوں کو دھمکی دیتا کہ وہ پولیس اور سول انتظامیہ اور جموں کے سیاسی اشرافیہ سے جڑا ہوا ہے۔منیر نے بعد میں منیر آبادنام سے ایک رہایشی کالونی بھی قائم کی جہاں خود اس کاایک شاندار گھر موجودہے۔ منیر کو پولیس نے اس سال کے اوائل میں گرفتار کیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ جموں ریجن کے کچھ سینئر بی جے پی لیڈروں نے مبینہ طور پر منیر کے حق میں پولیس پر دباؤ ڈالااور ازاںبعد اس کو رہا کر دایا۔ اس  بات سے صاف پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی کے کچھ سینئر لیڈربھی مبینہ طور پر منیر کے احسان مند ہیں، ہوسکتا ہے کہ ایسے لیڈر بھی سنجوان میں زمین پر قبضے کے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہوں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here