نعیم کی بے حساب جاگیریں ’’وڈیرا سائیں‘‘

603
تحصیل بڈگام میں 80 کنال مہاجر جائیداد سابق وزیر محبوبہ کے قریبی ساتھی نے حاصل کی
بسمہ نذیر
رواں برس  کے آغاز میں، ایل جی انتظامیہ نے جموں و کشمیر کے تمام ضلع مجسٹریٹوں کو ہدایت دی کہ وہ کشمیری پنڈتوں کی جائیدادوں کے ریونیو ریکارڈ کی نشاندہی کریں اور انہیں اکھٹا کریں۔ ایل جی کی جانب سے یہ حکم نامہ کشمیری پنڈتوں کی جلاوطنی کے بعد غیر قانونی طور پر ان کی جائیدادووں پر جو قبضے کئے گئےاس املاک کو واپس لینے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔
حکومت نے ضلع مجسٹریٹوں کو کشمیری پنڈتوں کی زمینوں کے ریونیو ریکارڈ کی کراس چیک کرنے کی بھی ہدایت دی جو وادی چھوڑنے کے بعد دھوکہ دہی سے فروخت کی گئی تھیں یا انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔دریں اثنا، کشمیری پنڈتوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی جائیدادوں سے متعلق ریونیو ریکارڈ یا دیگر درست دستاویزات فراہم کریں جو ان کی جلاوطنی سے قبل ان کے پاس تھیں۔ اب تک، ریونیو حکام ان سمتوں پر سست رفتاری سے آگے بڑھے ہیں۔ ان کی کوششیں کشمیری پنڈتوں کی زمینوں یا مکانات پر ایسے غیر قانونی قابضین کو پکڑنے تک محدود رہی ہیں جو رتبے میں کم ہیں۔
صاحب اقتدارنعیم نے دولت کیسے جمع کی
جموں و کشمیر مائیگرنٹ امویو ایبل پراپرٹی ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا سکتا ہے، مرحوم مفتی محمد سعید اور ان کی بیٹی محبوبہ مفتی کے قریبی ساتھی نعیم اختر نے تحصیل بڈگام میں تقریباً 80 کنال (10 ایکڑ) مہاجر املاک پر قبضہ کر رکھا ہے۔ واضح رہے کہ سابق ​​ریاست کی پی ڈی پی حکومت کے دور میں اختر نے اہم قلمدان سنبھالے ہوئے تھے۔اس وقت اختر کی بیٹی شہریار خانم اس وسیع پلاٹ پر ڈیری فارم چلاتی ہیں۔ کشمیر سینٹرل کے ذریعہ حاصل کردہ ریونیو ریکارڈ کے مطابق، اختر کے پاس مامت اور سورد میں بالترتیب 79 کنال 8.5 مرلہ اراضی ہے۔ زمین کی قسم اور نوعیت بنجر قدیم (11 مرلہ) اور زیر سایہ (10 مرلہ) کے زمرے میں آتی ہے جو خسرہ نمبر 23، کھیوٹ نمبر 5، کھاتہ نمبر 17؛ کٹہ 15 کے تحت 26 کنال اور 8 مرلہ زمین،خسرہ نمبر 32 کے تحت 46 کنال اور 13 مرلہ، خسرہ نمبر 67 کے تحت 3 کنال 4.5 مرلہ (مہاجر جائیداد) کھاتہ نمبر 50 کھیوٹ نمبر 17۔ یہ زمین نعیم اختر ولد محمد سید اور نعیم اختر کی اہلیہ عصمت آرا کے نام پر  رجسٹرڈ ہے۔ ذات اندرابی، ساکنہ بانڈی پورہ ،سند فروخت نمبر 49۔ مزید 13 مرلہ،  خسرہ نمبر 82  سیکشن ۱۲۱جائیداد مہاجرین کے زمرے کے تحت اعزاز احمد وغیرہ اور اختر کے نام پربہ حصہ برابر درج ہے۔ اقتدار میں رہتے ہوئے اتنی بڑی جائیداد کا حصول اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہے جس کی تحقیقات بدعنوانی کی روک تھام کے قانون اور غیر متناسب اثاثوں کے کیس کے تحت کی جا سکتی ہے۔
بڈگام تحصیل میں ہی موضع مامت میں نعیم اختر کے پاس 3 کنال اور 8 مرلہ میدانی (سادہ زمین) ہے جس کی ملکیت شری اوتار کرشن وغیرہ باشرح یک حصہ اور کاشی ناتھ وغیرہ باشرح 3 حصے ہیں یہ اراضی  خسرہ نمبر 36 کھاتہ نمبر 17 اور کھیوٹ نمبر 5 کے تحت آتی ہے۔ اختر تحصیل بڈگام میں 79 کنال اور 6 مرلہ ریاستی،سماجی اور مہاجر زمین پر قابض ہے۔
نعیم کو زمین کا حق استحقاق کیوں نہیں مل سکا؟
کہانی مزید دلچسپ ہو جاتی ہےجب اکتوبر 2017 میں محکمہ ریونیو نے ایک ہی بار میں 20 تحصیلداروں کے تبادلے کے احکامات جاری کیے تھے۔ ایک تحصیلدار  کو چھوڑ کر باقی سبھی نے نئی تعینات جگہوں پر جوائن کیا۔ واحد تحصیلدار جسے فارغ نہیں کیا گیا، وہ تحصیل بڈگام کا تھا۔ یہ وبڈگام کے تحصیلدار  وفائی تھے جن کا تبادلہ ریونیو ٹریننگ کالج میں بطور پرنسپل ہوا تھا۔وفائی نے تقریباً دو ماہ تک اپنی نئی پوسٹنگ جوائن نہیں کی نئے تعینات تحصیلدار جو بڈگام میں وفائی کو فارغ کر کے جوائن کرنے والے  تھے،کو کچھ دیر انتظار کرنے کو کہا گیا۔پیش رفت سے واقف ایک سینئر ریونیو افسر نے کشمیر سنٹرل کو  بتایا:
اراضی کے ٹائیٹل کی منتقلی سے متعلق فائل جس میں نعیم اختر کی دلچسپی تھی وہ وفائی کے پاس زیر التوا تھی جو اس وقت تحصیلدار بڈگام تھے۔ جب فائل زیر التواء تھی، وفائی کوبڈگام سے منتقل کر دیا گیاچونکہ اختر اس وقت محبوبہ کی قیادت والی مخلوط حکومت میں وزیر تھے اس نے وفائی کوبڈگام میں ہی رہنے اور فائل کو ٹھکانے لگانے کی ہدایت کی۔
ریونیو افسر نے انکشاف کیا کہ وفائی کی ریٹائرمنٹ میں صرف چند ماہ رہ گئےتھے۔ وہ نعیم اختر اور اس کے اہل خانہ کو زمین کا ٹائیٹل غیر قانونی طور پر منتقل کرنے سے گریزاں تھا۔ اس وقت تک جب اختر اپنی سرکاری حیثیت کا استعمال کرتے ہوئے فائل کو نمٹانے کے لیے نئے تحصیلدار کو مجبور کر سکتا تھا، بی جے پی نے محبوبہ کی حمایت واپس لے لی۔اور مخلوط حکومت گر گئی  یہی وجہ ہے کہ اختر کو زمین کے مالکانہ حقوق نہ مل سکے۔ فی الوقت اختر کی بیٹی شہریار خانم وہاں پر ایک ڈیری فارم چلاتی ہیں۔ شہریار کا اومپورہ بڈگام میں بوٹلنگ پلانٹ ہے، جہاں پریمیم دودھ کو پیک کیا جاتا ہے اور اسے فروخت کے لیے پروسیس کیا جاتا ہے۔ دودھ کو ڈیری فارم کے ملازمین مختلف مقامات بشمول سری نگر انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے متصل ہائی پروفائل فرینڈز انکلیو تک پہنچاتے ہیں۔
 
جائیداد سے متعلق جھوٹا حلف نامہ الیکشن کمیشن میں جمع کرایا
مفتی محمد سعید کے چہیتے بیوروکریٹ جو مقبول نہیں بلکہ منتخب  وزیر بنے تھے ،نے غیر منقولہ جائیداد کے تعلق سے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو جو حلف نامہ داخل کیا ناکافی ہے،اس کی تفصیلا ت  نیشنل الیکشن واچ کے ذریعے آن لائن حاصل کی جا سکتی ہیں۔حلف نامے میں ڈیری فارم یا اس کی جائیداد کی قیمت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ نعیم اختر اور ان کی شریک حیات کے نام پر موجود زرعی زمین کی مالیت ایک کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔درحقیقت، سری نگر کے مضافاتی علاقے بڈگام میں اس وقت مروجہ نرخوں پر ڈیری فارم کی قیمت 15 کروڑ روپے سے زیادہ تھی۔ تجارتی عمارتوں کی قیمت صفر ہے۔ یہ سراسر جھوٹ ہے کیونکہ ڈیری فارم میں ہی کمرشل ڈھانچے ہیں۔کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ غیر زرعی زمین کی قیمت صفر قرار دی گئی ہے۔ یہ حیران کن اور مضحکہ خیز ہے کہ جو شخص مفتی کابینہ کے مسٹر کلین کی تصویر بنا پھرتا تھا اس نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے بھی جھوٹ بولا۔

کیا مگر مچھوں کے خلاف کارروائی ہوگی؟
14 اگست 2021 کو جموں و کشمیر حکومت نے دھوکہ دہی کے ذریعے تجاوزات اور زمینوں پر قبضے سے متعلق شکایات کو دور کرنے کے لیے ایک آن لائن پورٹل تیار کرنے کا حکم دیا۔ اور اس کے لئے ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ریلیف بحالی اور تعمیر نو کا محکمہ ایسی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ایک آن لائن پورٹل تیار کرے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیامگر مچھوں کے خلاف کارروائی ہوتی ہے یا نہیں اور بااثر قابضوں  پر قبضہ کرنے والوں پر کلہاڑی چلتی ہے یا نہیں۔

1 COMMENT

  1. کشمیر میں نئی عوامی سرکار بننے کی دیر ہے، اس کے بعد سارے گھپلے حلال ہوجائیں گے اور سب غیر جائز جائیدادیں جائز ٹھہریں گی، بس ایک بار سرکار بن جانے دیں. اسی سبب سے یہ نام نہاد حکمران انتخابات کرانے کے لیے ہر روز اصرار کررہے ہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here