پاکستان زیر قبضہ کشمیر کی” خود مختاری “ چشم شوئی 

155
خطہ مالی اختیارات سے عاری
تمام مالیاتی کنٹرول وفاقی حکومت کے ہاتھ میں
وزیر اعظم پاکستان زیر قبضہ کشمیر عبدالقیوم نیازی نے سارا معاملہ خفیہ رکھا۔ وزارت خزانہ اور وزیر خزانہ عبدالمجید خان سے مشاورت نہیں کی گئی۔
حارث قدیر
پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے وزیر اعظم نے ایک بار پھر حکومت کو حاصل مالی اختیارات ،حکومت پاکستان کے حوالے کر دیے ہیں۔خطے کے وزیراعظم عبدالقیوم نیازی کی ہدایت پر محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل کو سینٹرل بورڈ آف ریونیو (سی بی آر) کے عہدے سے ہٹا کر چیف سیکرٹری شکیل قادر کو نیا چیئرمین مقرر کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے افسر ہیں جبکہ چیف سیکرٹری فیڈریشن آف پاکستان کی طرف سے خطے میں تعینات لینٹ آفیسر ہیں۔ اس طرح پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں ٹیکس جمع کرنے والی ایجنسی سی بی آر ایک بار پھر وفاقی حکومت کے کنٹرول میں آ گئی ہے۔ عبدالقیوم نیازی نے سارا معاملہ خفیہ رکھا اور اس اہم معاملے پر نہ تو وزارت خزانہ اور نہ ہی وزیر خزانہ عبدالمجید خان سے مشاورت نہیں کی گئی۔ اندرونی ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے سیکرٹریٹ کو خصوصی ہدایات دی تھیں کہ اس معاملے میں وزارت خزانہ کے ساتھ مشاورت نہ کی جائے ۔وزارت خزانہ کے ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ انہیں اس سارے عمل سے لاعلم رکھا گیا ہے۔
اس طرح گزشتہ حکومت میں کشمیر کونسل کو غیر فعال کر کے خود وزیر اعظم پاکستان نے اپنے زیر قبضہ علاقہ کی حکومت سے مالی اور انتظامی اختیارات کی منتقلی کا مالی فائدہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کے حوالے کر دیااس طرح مالی طور پرمذکورہ خطے کی حکومت ایک بار پھر پاکستان کی جانب سے تعینات کردہ لینٹ افسرکے رحم و کرم پر آ گئی ہے۔گزشتہ حکومت کے ان اقدامات کے بعد وزارت خزانہ نے انکشاف کیا تھا کہ کشمیر کونسل کے ذریعے اکٹھا ہونے والا سالانہ ٹیکس تقریباً 12 ارب روپے تھا۔ جس میں سے کشمیر کونسل کی مدد سے سی بی آرکو 30 ارب روپے منتقل کیے گئے۔
اس سے قبل کشمیر کونسل پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر سے ہر قسم کے ٹیکس وصول کرتی تھی۔ یہ ایجنسی، جو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع ہے، وفاقی وزارت کشمیر اور گلگت بلتستان کے زیر ماتحت ہے
 سیاسی جماعتوں سمیت قوم پرست جماعتیں کشمیر کونسل کو ختم کرنے اور مالیاتی اور انتظامی اختیارات مقامی حکومت کو منتقل کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ گزشتہ حکومت نے کشمیر کونسل کو غیر فعال کر کے مالی اختیارات حاصل کر لیے تھے لیکن انتظامی اختیارات براہ راست وزیر اعظم پاکستان کو سونپے گئے تھے۔خیال رہے کہ پاکستان کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میںحکومت اس وقت اسلام آباد کی جانب سے اعلان شدہ 500 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کے گرد مختلف کمیٹیاں بنانے میں مصروف ہے لیکن دوسری جانب مالی اختیارات مرکزی حکومت کو سونپے گئے ہیں۔ خطے کا سالانہ بجٹ 141 ارب روپے ہے۔ ایسے میں 500 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان پاکستان کی معاشی اور سیاسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہیرا پھیری اور جعلسازی کے سوا کچھ نہیں۔یہ ٹھیک اسی طرح کا پیکج ہے جیسا کہ سابق مسلم لیگ(ن) جو ترقیاتی منصوبے بنا کر پیسہ کمانے کی شہرت رکھتی ہے نے بھی کیا تھا، خطے کے ترقیاتی بجٹ میں 100 فیصد اضافہ کرنے میں کامیاب ہوئی تھی لیکن کوئی بڑا منصوبہ نہیں بنا سکی۔ اگرچہ بیوروکریسی اضافی ترقیاتی فنڈز کے اخراجات کے لیے بہتر منصوبہ بندی کرنے میں کامیاب رہی تھی۔لیکن زمینی سطح پر وہ بھی محض سراب ثابت ہوا۔
اسے بڑے اور بولڈ فونٹ میں کہانی کے صفحہ 1 یا صفحہ 2 پر سب سے اوپر کے قریب ایک نمایاں باکس کے طور پر لیں۔
 500 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان
نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی
پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کا سالانہ بجٹ 141 ارب روپے ہے۔ ایسے میں 500 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان پاکستان کی معاشی اور سیاسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہیرا پھیری اور جعلسازی کے سوا کچھ نہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here