چند مبلغین بدگمانی کو عام کررہے ہیں۔

389

 منبر  پرگالیوں کا نشانہ اکثر خواتین بنتی ہیں

ایسے رویئے کو روکنے اور استفسار کی ضرورت 

محمد عمران
کشمیری سماج نے خواتین کی شاندار کامیابیوں کا مشاہدہ کیا ہےاور ہم سب اسے تسلیم کر رہے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔ مختلف شعبوں میں کشمیری خواتین کی یہ کامیابی غیر معمولی ہے۔لیکن آج کی صورتحال میرے لئے تکلیف دہ ہے۔ مجھے متعصب ملاؤں اور مذہبی جنونیوں سے تکلیف ہوتی ہے جو کشمیری خواتین کو کثرت سےطعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں۔ خواتین پراس طرح سے ان کے یہ حملے ان کی سماجی طور پر بگڑی ہوئی ذہنیت کی اپج ہے۔ مجھے اس سب سے تکلیف ہوئی ہے اور اسے بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمیں اپنے درمیان ایسی سماجی طور پر بگڑی ہوئی ذہنیت کو بے نقاب کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
دراصل جب تک ڈاکٹر کسی بیماری کی صحیح تشخیص نہیں کرتا، وہ اس کا علاج نہیں کر سکتا اسی طرح، جب تک ہم اپنے معاشرے کے بعض افراد میں اس بیماری کو درست طریقے سے تسلیم اور تشخیص نہیں کرتے، ہم اس کا علاج نہیں کر سکتے۔ ایک زخم جو پوشیدہ رہتا ہے اس کا علاج نہیں ہوتا اور نہ ہی مندمل ہوتا ہے زخم کا علاج کرنے کے لئے، اسے ڈھونڈ نکالنا ضروری ہے۔ہمارے معاشرے کے کچھ طبقوں میں،زن بے زاری ایک ایسا رستا ہوا ناسور ہے جس کے ہم شکار بن گئے ہیں ۔وقت رہتے اگر ہم نے اس ناسور کا کوئی علاج نہیں ڈھونڈا تو یہ بد سے بدتر ہوتا جائے گا۔ ہمیں اس کا علاج ہر حال میں کر نا ہوگا۔
جو کچھ میں نے مشاہدہ کیا ہے مجھے اسے قبول کرنے اور اس کا اظہار کرنے میں تکلیف ہوتی ہے۔ لیکن میں بیان کروں گا ۔ کشمیر میں خواتین کے خلاف بدتمیزی پر مبنی تشدد کو طاقتور لیکن خطرناک مذہبی تعصب پسندوں کی منظوری حاصل ہے۔ المیہ یہ ہے کہ کشمیری معاشرے پر ان جاہلوں کا غلبہ طویل عرصے سے ہے۔
رجعت پسند خیالات
ملاؤں اور خواتین سے نفرت کرنے والوں کی بگڑی ہوئی ذہنیت نے ہمارے معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ حال ہی میں کشمیر میں ایک سروے ہوا جس میں حیران کن طور پر یہ نتیجہ سامنے آیا  کہ کشمیر میں 40 فیصد خواتین کو شوہروں  کے ہاتھوں مار کھانے سے کوئی پرابلم  نہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ہم 21ویں صدی میں صنفی مساوات اور جدید چیزوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں  لیکن اس سے ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے۔ آج بھی کشمیر کا زیادہ تر معاشرہ مذہبی قدامت پرستی اور پسماندگی کی بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے۔ملاؤں اور بہت سے اساتذہ کے ذریعہ رجعت پسند خیالات کی تبلیغ جاری ہے۔
مبلغین اکثر خواتین کو منبر پر گالیوں کا نشانہ بناتے ہیں تاکہ وہ انہیں تسلیم کر سکیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ زیادہ تر تعلیمی اداروں میں پردے کا رواج روز بہ روز بڑھ رہا ہے ہم اپنے معاشرے کی تمام خواتین پر  درحقیقت، اپنے پورے معاشرے پر قرون وسطی کے رواج مسلط کرتے ہیں۔ جدید مہذب معاشرے میں اس طرح کے طریقوں اور ان پر عمل کرنے والوں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ وہ جدیدیت اور ترقی کے لیے بے تاب ہیں۔
کشمیر میں، اکثریتی معاشرہ اور حکومت خواتین کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے سے دور، ہمارے سیاستدانوں نے خطا کار وزراء اور بیوروکریٹس کو تحفظ فراہم کیا۔ انہوں نے چھیڑ چھاڑ اور سیکس ریکٹ جیسے جرائم میں ملوث ہونے کے بعد انہیں باہر جانے کی اجازت دی۔ مہذب معاشرے میں مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچایا جاتا ہے لیکن یہاں قانون اپنا راستہ اختیار کرنے میں بالکل ناکام ہے۔
 بدگمانی کی گہریں جڑیں
اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ قانونی سزا ممکنہ طور پر ایسے معاملات میں رکاوٹ کا کام کرے گی جس میں خواتین کے خلاف صریحاً تشدد شامل ہو۔ ہم صرف امید کرتے ہیں کہ ایسا ہوتا ہے۔ لیکن، ہمارے تناظر میں، مسئلہ یہیں ختم نہیں ہوتا، محض احتجاج، مذمت یا حتیٰ کہ سزاؤں سے ان کارروائیوں کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ ہمارے معاشرے میں ایک مصیبت یہ بھی ہے جس کی وجہ سے اکثر خواتین کے خلاف ان غیر انسانی کارروائیوں کو کم کیا جاتا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کی گہری جڑیں ہیں جہاں مرد کی قدر عورتوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔
کشمیر میں حالیہ برسوں کے وران ،  شہری اور دیہی علاقوں میں یکساں طور پرجنین کاقتل، نوزائیدوں کا قتل، گھریلو تشدد، جہیز کے لیے خواتین کے ساتھ ناروا سلوک وغیرہ کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے ۔ بدقسمتی  سے دوسرا پہلو اس مسئلہ کا یہ ہے کہ معاشرے میں خواتین کے تئیں ہمارے رویوں میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی ۔ ہم بحیثیت معاشرہ اپنے آپ پر ایک احسان کرسکتے ہیں وہ یہ کہ ہم خواتین کے تئیں اپنی رجعت پسندانہ سوچ کو ترک کریں ۔۔ لاکھ ہم اپنے آپ سے انکاری ہوں، لیکن ایک ایماندارانہ جائزہ ہمیشہ یہ ثابت کرے گا کہ ہمارا تعلق ایک ایسے معاشرے سے ہے جو خواتین کو کمتر سمجھتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ عورت کے بارے میں ہمارا معاشرتی تصور ایک ثانوی ہستی کا ہے جس پر مردانہ اختیارات کو آزادانہ طور پر نافذ اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح ہم اسے خاندان کے ایک فرد یا بڑے معاشرے کے ایک حصے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
عورت کو قرون وسطیٰ کے طریقوں کے مطابق ہمارے معاشرے کی شائستگی اور اخلاقی رکھ رکھاؤ کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ اس قسم کی ذہنیت ہمارے معاشرے میں بہت عام ہےجیسا کہ مختلف مطالعات میں یہ بات سامنے آئی ہے۔اور یہ روزمرہ کے تشدد کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہوتا ہے کیونکہ خواتین کو آسان ہدف کے طور پرلیا جاتا ہے۔ مختلف اسکالرز کا استدلال ہے کہ تشدد کا ایک طویل عرصہ، جیسا کہ کشمیر میں جاری ہے، خواتین کے خلاف گھریلوتشدد میں اضافے کا مثالی منظر نامہ بھی فراہم کرتا ہے کیونکہ ان کے خلاف نفرت انگیز رویوں میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
 جو ہمیں غلط لگتا ہےخواتین کواس کا قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے۔
خواتین کے خلاف گھناؤنی حرکتوں کے ارتکاب کے بعد بھی، کچھ لوگ بے دلی سے اس کا الزام خود متاثرین پر ڈال دیتے ہیں۔ خواتین کو سیلاب کا ذمہ دار سمجھ کر عوامی مقامات پر ان پر ’الزام تراشی‘ کے طعنوں کا صدمہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یقیناً یہ اس سے زیادہ مضحکہ خیز نہیں ہو سکتا۔ یہ کسی بھی حد تک فضول لگ سکتا ہے؛ یہ خاص مثال اس نفسیاتی بدسلوکی کی ایک مضبوط یاد دہانی تھی جس کا ہماری خواتین کو اکثر سامنا کرنا پڑتا ہے۔
 بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ خواتین کے ساتھ اس قسم کا رویہ ہمارے معاشرے میں سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں صنف نازک کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کو جائز قرار دیتا ہے۔ تصور کریں کہ ہماری خواتین کی زندگیوں کو پدرانہ نظام اور تنازعات کی صورت میں دوہرے جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کی ایک قابل ذکر تعداد نے معاشرے کی طرف سے عائد کردہ حدود سے آگے بڑھنے کے لیے اس سب سے انکار کیا ہے۔ اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں خواتین کے بارے میں بنیادی رویہ ایک جیسا ہے۔ تبدیلی ابھی آنی ہے یا کبھی نہیں۔ اور اس کا آغاز اس غلط فہمی پر مبنی گفتگو کو مکمل طور پر رد کرنے سے ہوتا ہے جو رجعت پسند مبلغین منبر اور سوشل میڈیا پر خواتین یا معاشرے میں ان کے مقام کے بارے میں پھیلاتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here