کشمیر میں دہشت گردی کی شکست کیلئے

378

مضبوط سول سوسائٹی کی ضرورت

اقبال احمد
 پونچھ میں حال ہی میں اختتام پذیر جنگجو مخالف آپریشن فوج کے لئے فائدہ مند نہیں رہااور پہلی جیسی صورتحال کو واپس ڈگر پر لانے میں وقت لگے گا۔ اس کے ساتھ یہ واقعہ کشمیر میں دہشت گردی کو برقرار رکھنے میں پاکستانی مرکزیت کی تصدیق کرتا ہے۔
رواں برس فروری میں، ہندوستان اور پاکستان نے ایل او سی کے ساتھ 2003 کے جنگ بندی معاہدے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ دہرایا۔ دونوں ممالک نے امن اور استحکام کے لیے خطرہ بننے والے “اہم مسائل کو حل کرنے پر بھی اتفاق کیا تھا۔ اب یہ بات عیاں ہے کہ پاکستان جنگ بندی کے معاہدے سے صرف وقت خرید رہا تھا تاکہ اپنے مغربی اور مشرقی اطراف میں فوجی مصروفیت سے بچ سکے۔ فروری میں پاکستان کی توجہ افغانستان کے ساتھ تھی۔
افغانستان میں توقع سے جلد طالبان کے اقتدار میں واپسی کے بعد سے پاکستان کشمیر میں دہشت گردی کی حمایت کے معاملے میں ماضی کی نہج پرلوٹ آ یاہےاور اس کے لئے دراندازی اور ہتھیار بھیجنےکی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ماضی کے تجربوں کی روشنی میں دیکھیں تو آنے والے سرما سے قبل جب دراندازی کے راستے مسدود ہوتے ہیں پاکستان دہشت پسندوں کو کشمیر کے اندر دھکیلنے کی سر توڑ کوشش کرے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان کشمیر میں دہشت گردی کے نظام کو کافی احتیاط سے پروان چڑھا رہا ہے ایک، پاکستان کے تربیت یافتہ دہشت گرد اور ہتھیاروں کی مسلسل فراہمی۔ دوسرا، اوور گراؤنڈ ورکرز اور پاکستانی پراکسیوں کا نیٹ ورک، جو دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کو آکسیجن فراہم کرتا ہے ان کی دیکھ بھال ،چونکہ مقامی دہشت گرد نیٹ ورک عسکریت پسندوں اور پاکستان سے ملنے والے ہتھیاروں کی نقل و حرکت کو برقرار رکھتے ہیں۔ کشمیر کے متعصب نوجوانوں کا ایک
حصہ دہشت گردی کے کیمپوں میں داخل ہو رہا ہے، جو متنوع سماجی و اقتصادی عوامل سے متاثر ہے۔ یہ نوجوان ہتھیاروں کو سنبھالنے یا گوریلا جنگ میں قائم رہنے کے معاملے میں مکمل طور پر غیر تربیت یافتہ ہیں۔ وہ پاکستان کے پروپیگنڈے کی وجہ سے جہادی ذہنیت کے ساتھ عسکریت پسندی کو اپناتے ہیں۔ ہتھیاروں سے نمٹنے اور اپنی بقا کے لیے، وہ پاکستان سے بھیجے گئے تربیت یافتہ دہشت گردوں یا گوگل سرچ پر انحصار کرتے ہیں۔
دہشت گردوں کے خلاف دوبارہ شروع ہونے والی حکومتی کارروائی کے ساتھ، کشمیر میں مقامی عسکریت پسندنچلی سطح پر آگئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ دباو تربیت یافتہ پاکستانی دہشت گردوں کو وادی میں کسی بھی دہشت گردی کا مرکز بناتا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق سیکورٹی فورسز نے وادی کشمیر میں سرگرم 38 پاکستانی دہشت گردوں کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں لشکر طیبہ (LeT) کے 27 اور جیش محمد (JeM) کے 11 جنگجو شامل ہیں۔ یہ تمام سیکورٹی فورسز کے ریڈار پر ہیں اور جلد ہی انہیں اپنے انجام تک پہنچایا جائے گا۔
رحد پر ہونے والی تمام دراندازی اب زیادہ سے زیادہ گولہ باری پر منحصرہے۔ پاکستان سردیوں کے مہینوں میں دہشت گردی کو برقرار رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ہتھیار کشمیر بھیجنے کی کوشش کررہا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ چند مہینوں کو کنٹرول لائن کے اپنے اطراف میں اپنے اڈے بنانے اور مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا ہےہمسایہ ملک کے دوغلے پن پر واپس آنے سے، لائن آف کنٹرول دوبارہ فعال ہو سکتی ہے۔ کیونکہ جب ایک قوم دوسری قوم میں دہشت گردی کو دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے تو کسی بھی وقت کچھ بھی غلط ہو سکتا ہے۔
فوج اور سیکیورٹی اداروں کو ایک لائن آف کنٹرول پرمضبوط حفاظتی گرڈ پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی، اور پاکستانی پراکسیوں کے سپورٹ سسٹم کو نشانہ بنانا ہوگا۔ دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے، بالائے زمین کارکنوں کو نشانہ بنانا ضروری ہے۔ چونکہ ان میں سے بہت سے لوگ قانون کے ساتھ لکا چھپی کھیل رہے ہیں ، اس لیے انہیں پکڑنا زیادہ مشکل ہے۔کیونکہ ٹارگٹ واضح نہیںہیں اس بنا پر انٹیلی جنس ایجنسیوںکو مشکلات درپیش ہیں۔
مرکز کو کشمیر پر پاکستان کے دوغلے پن کے احساس کو مزید گہرا کرنے پر کام کرنا ہوگا۔ اگرچہ اس محاذ پر کچھ پیش رفت ہوئی ہےلیکن کشمیر پر پاکستانی پروپیگنڈا بین الاقوامی سطح پر کچھ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے کافی ہے ۔ یہ پاکستانی عوام کے لیے بھی بدستور افیون بنی ہوئی ہے، تاکہ ان کی توجہ حکومت کی گھریلو ناکامیوں سے ہٹائی جا سکے۔ کشمیر کے اندر، جبر اور اس کا پاکستانی پروپیگنڈہ اپنی اہمیت کھو رہا ہے۔ اب صرف ایک بہت چھوٹا حلقہ ہے جو اس جھوٹ کو خریدار ہے۔
کشمیر پر پاکستان کے جھوٹ کو پوری طرح بے نقاب کرنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس بیانیے کی تعمیر کے لیے حکومت کے اقدامات قابل قدر ہیں۔ سول سوسائٹی کی طرف سے، ردعمل کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔اگرچہ دہشت گردی کے خلاف مقامی پش بیک مشکل ہے لیکن اس کی اشدضرورت ہے۔یہ بات قابل فہم ہے
کہ دہشت گردی کے درمیان رہنے والوں کے لیے کوئی بھی آوازاٹھانا یامزاحمت کرنامشکل ہے۔ تنازعات والے علاقے میں عام لوگوں کو صفر تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف بولنا ان کے لیے کوئی آپشن نہیں ہے۔ اس کے لیے بہت زیادہ خرچہ آتا ہے، لیکن خاموش رہنے کی بھی بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے ۔
کشمیری زندگی تب ہی معمول پر آئے گی جب تشدد بند ہوگا۔ جیسے کہ کچھ تبدیلیاں واقع ہورہی ہیں ، ہم اس کے تسلسل کی توقع کر سکتے ہیں جوکچھ ہو رہا ہے۔ عسکریت پسند اقلیتوں اور مہاجر مزدوروں جیسے مزید نرم اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ہمیں مزید کشمیریوں کی ضرورت ہے جو تشدد کو مسترد کرنے کے لیے آواز اٹھائیں اور جو امن کے لیے بات کریں۔
سول سوسائٹی کی بڑی اکثریت عسکریت پسندوں کے ہاتھوں ہلاکتوں کی حمایت نہیں کرتی۔ لیکن ساتھ ہی سول سوسائٹی کایہ نرم رویہ دہشت گرد کو روکنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ ہم نے ابھی تک حتمی لکیر کو عبور نہیں کیا ہے جہاں کسی بھی قسم کے تشدد کے لئے سماج میں کوئی جگہ باقی نہیں رہتی ۔ جس وقت دہشت گرد محسوس کرے گا کہ لوگ اس کے خلاف ہو گئے ہیں، وہ کافی حد تک ناکام ہو جائے گا۔اور اس پیمانے پر ہم ابھی تک پورا نہیں اترتےابھی بھی کشمیریوں کی ایک اکثریت ایسے قتل کو قبول کرتی ہے جن کا ہدف عام اور معصوم لوگ ہوں۔ ملوث کون ہے ، اس قتل سے کیا ہوگا ۔ ہاں ایسی ہلاکتوں سے تکلیف ہوتی ہے لیکن ان کے پاس خاموش تماشائی بننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ یہ وہ سماجی رائے ہے جو آخر کار دہشت گرد تک پہنچتی ہے کہ معاشرہ کسی نہ کسی طرح نرم اہداف کے قتل کو قبول کرتا ہے۔
تاہم کار حیات کے تمام رنگ سرمئ نہیں بلکہ انہیں صاف شفاف اور غیر جانبداری سے دیکھنا چاہئے ۔ اگرایسی ہلاکتوں کو روکنے کے لیے سخت حفاظتی چیکنگ کو جابرانہ طور پر دیکھا جاتا ہے، تو شاید اس سے عسکریت پسندوں کو وہاں آسانی سے کام کرنے کا موقع مل سکتا ہےجہاں پر انہیں لگے کہ نرم روی ہے اور ہم آسانی کے ساتھ اپنے ہدف تک پہنچ سکتے ہیں ۔
جب تک سول سوسائٹی کی طرف سے مضبوط ردعمل سامنے نہیں آتا ، وادی کی سڑکیں اور گلی کوچے لہو میں تر بتر رہیں گے اور یہ خون کشمیریوں کا ہی ہوگا۔اگر ہم یہ مانتےہیں کہ دہشت گردی سے ہماری زندگی کو کوئی خطرہ نہیں تو ہم دیوانے کا خواب دیکھ رہے ہیں ۔ جس معاشرے میں قتل و غارت کو قبولیت کا درجہ ملا ہو وہاں زندگی ہمیشہ خطرے میں رہے گی۔
اگر ہم یہ سوچیں کہ میں سلامت ہوں بس میرے سامنے والے کو خطرہ ہے لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ میری باری کب آئی گی ۔ ہم جانبی نقصان کوئی آپشن نہیں کیونکہ جب تشدد بڑھتا ہے تو سب کو درپیش خطرات کی سطح بھی بڑھ جاتی ہے۔
فی الحال، عسکریت پسند اور ان کےآقا دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عام آبادی کو نچلی سطح کے خطرے کا سامنا ہے۔ جس لمحے تک عسکریت پسند اور ان کےآقا دباؤ محسوس نہیں کریں گے، عام لوگوں کے لیے خطرہ بدستوربڑھتا جائے گا۔
باہر نکلنے کا راستہ
 *ایل او سی پر بہتر انتظام
* عسکریت پسندوں کو تلاش کرنے، گرفتار کرنے اور انہیں بے اثر کرنے کے لیے بہتر انٹیلی جنس معلومات
بالائے زمین کارکنوں کو گرفتار کرنے، ان کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے بہتر انٹیلی جنس معلومات
* بہتر حفاظتی قانون نافذ کرنے والے اقدامات
* کشمیر میں تشدد کو روکنے کے لیے سول سوسائٹی کے مضبوط اقدامات

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here