کھیلوں سے محبت  کشمیر ی نوجوانوں میں نیا بدلاو

520
جنوبی افریقہ کے سیا ہ فام صدر اور سیاہ فام نسل کے وقار کی خاطر جدوجہد کرنے والے علمبردار نیلسن منڈیلا کا کہنا تھا کہ”کھیل دنیا کو بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اس میں حوصلہ افزائی کی طاقت ہے۔ جہاں کبھی صرف مایوسی ہوتی تھی وہاں امید پیدا کرسکتے ہیںیہ کھیل،“آج کشمیری نوجوان جنوبی افریقہ کے پہلے صدر کے الفاظ کی حکمت دریافت کر رہے ہیں۔ کشمیری نوجوان گلی کرکٹ اور فٹ بال کے ساتھ اپنی نئی اڑان کی راہیں تلاش کر رہے ہیں، آج کے کشمیرمیں ہر طرف کھیل چھائے ہوئے ہیںجو کہ ایک خوش آئندہ دورکی علامت کا استعارہ ہے ۔
حالات کیسے بدل گئے ہیں۔
ایک وقت تھا جب کشمیر کا ہر چھوٹا بچہ پتھراو ¿ کے مناظر سے متاثر ہو رہا تھا۔ بچوں سے لے کر جوانوں تک، بہت سے لوگوں کے ہاتھوں میں پتھر تھے۔ گزشتہ چند برسوں میں پتھر کی جگہ کرکٹ بیٹ، گیند، فٹ بال یا دیگر مشہور کھیلوں نے لے لی ہے۔ پتھر اٹھانے سے لے کر کرکٹ کا بیٹ اٹھانے تک کشمیر کے نوجوان زندگی میں آگے بڑھ رہے ہیں۔نوجوان اب سنگ زنی کی بجائے گیند بازی ،فٹ بال ، بیٹنگ ، اور دیگر کھیلوں کی پریکٹس کرتے ہیں ،انہیں اب سنگ زنی میں کوئی دلچسپی نہیں رہی وہ ملک کے دیگر نوجوانوں کی طرح آگے بڑھنا چاہتے ہیں ، وہ کچھ ایسا کرنا چاہتے ہیں جس سے ان کی زندگیوں میںسنسنی پیدا ہو ، وہ نام کمالیں ،شہرت حاصل کرلیں
کرکٹ کا بخار
کرکٹ کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد کا پسندیدہ کھیل ہے۔ کشمیر کی گلیاں اور کھیل کے میدان کرکٹ کھیلنے والے نوجوانوں سے بھرے پڑے ہیں۔ بچوں سے لے کر بڑوں تک، ہر روز ہزاروں کشمیریوں کو کرکٹ کھیلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر ہم کشمیر کی گلیوں کی ایک جھلک دیکھنے کی کوشش کریں تو چھوٹے بچے سے لے کر بڑے تک لوگ کرکٹ کھیل رہے ہوتے ہیں۔ کھیل میں ان کی دلچسپی کا اندازہ کھیلنے والی ٹیموں کی طرف سے ان خوش کن چیخوں سے لگایا جا سکتا ہے جب وہ ایک دوسرے کے مد مقابل ہوتی ہیں
کشمیر کے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کی تنگ گلیوں میں کھیلی جانے والی گلی کرکٹ کے لیے مخصوص کھیلوں کے میدانوں میں میچوں کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ کرکٹ سے محبت کا جذبہ کس قدر بڑھ رہا ہے۔ نوجوان کھیل سے محبت کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ کھیل کے میدان تلاش کر رہے ہیں۔ سری نگر میں پولو ویواور شیر کشمیر کرکٹ سٹیڈیم میں مختلف مقابلوں کا انعقاد کیا گیا ۔نوجوانوں میں کرکٹ کا بخار اتنا زیادہ ہے کہ ٹینگ پورہ کے فلڈ چینل کے قریب سینکڑوں نوجوان کھیل کود میں مصروف دیکھے جا سکتے ہیں۔ بہت سے لڑکے کھیل کو آگے بڑھانے کے لیے مناسب کٹ اور یونیفارم میں ملبوس نظر آتے ہیں۔ جب وہ کھیل کود میں مشغول ہوتے ہیں تو کوئی بھی شخص ان کی آنکھوں میں چمک دیکھ سکتا ہے، اور اپنے دلوں میں امید محسوس کر سکتا ہے۔ بس یہ نوجوان صرف کچھ مواقع تلاش کر رہے ہیں جو انہیں اپنی کھیلوں کی مہارت کو بہتر بنانے اور چمکانے کے قابل بنا سکتے ہیں۔
کھیل تناو کا بہترین علاج ہے۔
کے زین ٹیم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے، آلوچی باغ کے لڑکوں نے کہا کہ کرکٹ انہیں تروتازہ محسوس کراتی ہے، اور اسکول کے کام سے بہتر طور پر نمٹنے کے قابل بناتی ہے۔ کرکٹ کلب اینڈ لیس یونائیٹڈ الیون کے رکن جونیت نے کہا، “کرکٹ مجھے ارتکاز مہیا کراتا ہے ۔ یہ مجھے حوصلہ افزائی فراہم کرتا ہے.کھیلوں نے میرے بہت سے دوستوں کا نقطہ نظر بدل دیا ہے۔ وہ منشیات اور پتھراو میں ملوث تھے لیکن اب وہ کھیلوں میںمحو ہیں،وہ یا تو کرکٹ یاپھر فٹ بال کھیل رہے ہیں،“ 15 سالہ مطاہر کا کہنا ہے کہ وہ ہر روز کھیل کی مشق کرتے ہیں اور انڈر 19 ٹیم میں منتخب ہونے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔
نوجوانوں میں مقبولیت حاصل کرنے والا ایک اور کھیل فٹ بال ہے۔آج کشمیری نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد فٹ بال کی شوقین بن گئی ہے۔ جموں و کشمیر فٹ بال ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ہونے والے میچوں میں کھیل کے سنجیدہ کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔ بہت سی لڑکیاں بھی کرکٹ اور فٹ بال دونوں کی دلدادہ ہیں، اور قومی و بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی کرنے کے لئے پر عزم ہیں۔ پولو ویو گراونڈ اورTRC میں اس کھیل کی شائق بہت سی لڑکیوں کو پریکٹس کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
حال ہی میں سری نگر میں جموں و کشمیر پروفیشنل فٹ بال لیگ کا انعقاد کیا گیا۔ اس میں آٹھ پیشہ ور ٹیموں نے حصہ لیا۔یہ ٹورنامنٹ میں زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو اس کھیل میںشامل کرنے کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان میں مشتاق ٹورنامنٹ (پولیس لیگ) بھی شامل ہے۔ فٹ بال کشمیر کے نوجوانوں کے لیے ایک وسیع پلیٹ فارم تیار کر رہا ہے۔ دی رئیل ایف سی جیسے کلب نوجوانوں کے لیے اپنے فٹ بال کے خوابوں کو پورا کرنے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔
ایک مقامی فٹ بال کھلاڑی نوید نے کہا کہ وہ اپنی جوانی سے اس کھیل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ “فٹ بال زندگی کے بارے میں مثبت رویہ اور سوچ رکھنے کا کھیل ہے۔ میرے بزرگوں نے میرے اسکول کے سالوں کے دوران اس کھیل کو شروع کرنے کے لیے مجھے متاثر کیا۔ اب میں JKFA کے لیے کھیلتا ہوں۔ میرا نعرہ ہے: آئیے اٹھیں اور دوبارہ کھیلنا شروع کریں ۔ہم امید کرتے ہیں کہ جلد از جلد یہ سب (وبائی بیماری) ختم ہو جائے اور ہم سب دوبارہ ویسے ہی کھیل شروع کریں جیسے وباءسے پہلے تھا۔
حکومتی اقدامات
کشمیری نوجوانوں میں کرکٹ اور فٹ بال کا شوق مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یاد رہے کہ زندگی میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔ ہر چھوٹا قدم ہمیں کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔ صرف چند لوگ ہی گلی کرکٹ سے پروفیشنل ٹیم بننے کے قابل ہوں گے، لیکن مناسب رہنمائی کی ضرورت ہے۔ حکومت نوجوانوں کو کھیلوں میں موقع فراہم کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹورنامنٹس کا انعقاد اور مناسب انفراسٹرکچر فراہم کر رہی ہے۔ بہت سی این جی اوزایسے نوجوانوں کے لیے ٹورنامنٹس کا انعقاد کر رہی ہیں، اور کھلاڑیوں کو ان کے خوابوں کو پورا کرنے کی ترغیب دے رہی ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here