ایک سابق سنگ باز کی الجھن

314
تعارف
ایک سابق پتھر باز کو درپیش الجھنوں اور کشمیر کے دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کے بارے میں اس کے انکشافات کا مشاہدہ کریں۔ یہ نوجوان تقریباً دس سال سے جارحانہ پتھرباز رہا تھا اور چند بار جیل بھی جا چکا تھا۔ اس کی طرف سے درج ذیل تحریری پیغامات ہیں۔ اس کی درخواست پر ، اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
سرخیاں۔
یہاں پہ نفسیاتی اور ایک باضابطہ پلانڈ طریقے سے نوجوانوں میں ایسی باتیں ڈالی جاتی ہیں کہ وہ قوم مخالف بن جاتا ہے
اب ان کانیا طریقہ آیا ہے، وہ لڑکوں کو بولتے ہیں کہ آپ اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھو جب ہم کچھ کرنے کے لیے بولیں گے اسی وقت تم وہ کرو گے ۔اس سے ان کے پھنسنے کا چانس بلکل کم ہوتا ہے۔
جیساکہ موجودہ ماحول سے مجھے پتہ چلا ہے ،مجھے میری حکومت کی جاریہ پالیسیو ں کے بارے میں چند شکوک و شبہات ہیں۔
پہلا یہ کہ کیا ہماری حکومت یہاں ہندو راشٹر چاہتی ہے ؟؟ مطلب ملک میںصرف ہندو لوگ رہ سکتے ہیں؟کیونکہ انہیں باتوں کی بنا پر لوگوں کو قوم مخالف اور ملک مخالف بنایا جاتا ہے۔انہی باتوں کو بنیاد بنا کر نفسیاتی طریقہ اپنا کر لوگوں کو ملک دشمن بنایا جاتا ہے ۔مطلب یہ کہ اگر آپ انڈیا کہ ساتھ رہیں گے تو وہ آپ کے وسایل چھین لے گا ،آپ سے آپ کی نوکریاں ، زمینیں یہاں تک آپ کے پاس کچھ نہیں رہے گا۔اس کا مطلب ہے کہ اسلام کو خطرہ ہے ۔
میں بہت الجھن میں ہوں۔
سب لوگ چاہیں این سی والے ہو ں،چاہیں پی ڈی پی یاجماعت اسلامی…خیال رہے کہ ایسی باتیں ،میںمین سٹریم جماعتوں کے لوگوں سے سنتا ہوں۔جب سے آرٹیکل 370منسوخ ہوا تب سے یہ باتیں تواتر کے ساتھ سننے کو مل رہی ہیں ،لوگوں کے دلوں میں بہت ڈر ہے۔
۔
میں خود ڈرا ہوا ہوں ،کچھ سمجھ نہیں آتا۔میرے ذہن میںبہت سارے سوالات ہیں
جو لوگوں زمینی سطح پر عوام کے ساتھ غلط کرتے ہیں آپ انہیں اپنے ہاں کیوں جگہ دیتے ہیں ؟کیونکہ جو لوگ آپ کے سامنے ”جے ہند“ اور ”بھارت ماتا کی جئے“ جیسے نعرے لگاتے ہیں وہ زمینی سطح پر عوام کے ساتھ بہت غلط کرتے ہیں۔اور انہیں دھوکہ دیتے ہیں۔یہاں زمینی سطح پر کچھ بھی صحیح نہیں ہورہا ہے
میرا ماننا ہے کہ جب تک عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد بحال اور مضبوط نہیں ہوگا یہاں امن کبھی بھی نہیں ہوگا۔یہاں سب کو اپنی فکر لگی ہے ،کسی کوملک یا لوگوں سے پیار نہیں ،سوائے ہمارے بہادر سپاہیوں کے ،مجھے اگر کسی پہ بھروسہ ہے تو وہ فوج ہیں باقی سب سیاست کھیل رہے ہیں ۔
میں بھارت کی جمہوریت کے بارے میں جاننے کے لئے بے تاب ہوں۔ جب آپ مجھے مزید بتائیں گے تو میں جاننے کی کوشش کروں گا،اگر میں کہیں بھی امن اور خوشحالی کے حل کا حصہ بنوں تو میں ہمیشہ آپ کی خدمت میں رہوں گا۔
ایسا مواد کشمیریوں کو مشتعل کرتا ہے۔ اور یہ اب بھی فیس بک اور دیگر سوشل سائٹس پر موجود ہیں۔
یہ سوشل سائٹس ہیں جنہیں آئی ایس آئی ہینڈل کرتی ہے، وہ ان لوگوں سے رابطہ کرتے ہیں جو سماج دشمن سرگرمیوں میں پہلے ملوث ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ اب آپ کا مستقبل یہی ہے،ان ہینڈلزکے ذریعے نوجوانوں کوبتایا جاتا ہے کہ بھارت آپ کا مستقبل تباہ کرنے کے درپے ہیں ،وہ آپ پر ایف آئی آر لگاتے ہیں ، یہ لوگ مذہب کا کارڈ کھیلتے ہیں ،سوشل میڈیا پر سرگرم یہ لوگوں ایسے جوانوں کو ٹارگٹ کرتے ہیں جنہوں نے پہلے جیل کاٹی ہے ۔یا جن کے والدین مارے گئے ہیں۔سوشل میڈیا ہنیڈلز کی طرف سے یہ کام کبھی نہیں رکا وہ نوجوانوں کو لگاتار پھسلانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔بدقسمتی سے حکومت نے ان چیزوں کی طرف کبھی دھیان نہیںدیا۔یہی وجہ ہے کہ یہاں کبھی ملٹنٹوں کی بھرتی نہیںرکی ۔
پاکستان کے تنخواہ دار ان مقامی افراد نے اب ایک نیا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے ۔وہ لڑکوں کو بولتے ہیں کہ اپنے آپ کو نیوٹر ل رکھو،جب ہم یہاں سے کہیں گے اسی وقت آپ وہ کام کرو اس طرح سے ان کے پھنسنے کے چانس کم رہتے ہیں۔
مجھ سے بھی انہوں نے بہت بار رابطہ کیا ۔گھر ٍبھی آئے پیسوں کا لالچ بھی دیا لیکن میں راضی نہیں ہوا کیونکہ میں نے جیل میں ان کا اصل چہرہ دیکھا ہے۔ ان لوگوں کو جیلوں میں بھی وی آئی پی پروٹوکول ملتا ہے ۔تنظیم والے ماہانہ ان کو روپے بھی دیتے ہیں۔ہاں ایک اور بات، بےماری کہیںاورہے اور علاج کہیں اور کیا جارہا ہے…
ویسے ایک بات بتاوں ، یہاں سب خود کے لئے کررہے ہیں ۔لوگوں کو صرف استعمال کیا جاتا ہے ، مین اسٹریم سے بھی ، پولیس سی بھی اور باقی بارسوخ لوگوں سے بھی سب استعمال کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے جمہوریت کا اصلی چہرہ کبھی ہم نے دیکھا ہی نہیں۔
مجھے کشمیر کی بہت فکر ہے…
 یہاں نوجوان برباد ہورہا ہے۔
خدا ہم پر رحم کرے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here