محبوبہ کامسلم مذہبی کارڈ کھیلنا

251
اداریہ
خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے
بھارت جیسی جمہوریت میں انتخابات سے قبل سیاسی دل بدلی کوئی انوکھی چیز نہیں۔سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ملک کے اندر بن رہے سیاسی ماحول کو دیکھ کر اپنی اپنی وفاداریاں بدلتے رہتے ہیں،جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتیں بھی آنے والے متوقع انتخابات کی تیاریاں کرنے میں مگن ہیں ،نیشنل کانفرنس کو گزشتہ دنوں اس وقت زبرست دھچکا لگا جب پارٹی کے صوبہ جموں کے دو اہم لیڈران دیوندر سنگھ رانا اور سرجیت سنگھ سلاتھیہ نے پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔رانا کاپارٹی چھوڑنا حیرت انگیز تھا کیونکہ وہ فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ دونوں کے لئے پارٹی کے سب سے قابل اعتماد لیڈر تھے ۔دیوندر سنگھ کا وفاداری بدلنا ان تمام لوگوں میں سب سے بڑی تبدیلی تھی جو گزشتہ ایک برس کے دوران متبادل سیاسی قوتوں میں شامل ہوئے ۔کشمیر میں اس سال سیاسی تبدیلیوں کا سب سے زیادہ فائدہ سجاد لون کی پیپلزکانفرنس کو ہوا۔سجاد نے کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی اس وقت شدید دھچکاپہنچایا جب نیشنل کانفرنس کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ عبدا لرحیم راتھر کے بیٹے ہلال راتھر نے پیپلز کانفرنس میں شمولیت اختیار کی ۔وجوہات چاہئے کچھ بھی ہوں ہلال کی پیپلز کانفرنس میں شمولیت نے نیشنل کانفرنس کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے ۔
یہ سیاسی ادلا بدلی کوئی نئی بات نہیں۔لیکن پریشان کن چیز یہ ہے کہ مذہبی خطوط پر سیاسی رابطے استوار کرنا  بعض قوتوں کی چالبازی  آنے والے دنوں میں خطرے کی گھنٹی ہو سکتی ہے۔ پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے حال ہی میں راجوری، پونچھ، ڈوڈہ اور کشتواڑ کے مسلم اکثریتی اضلاع کا وسیع دورہ کیا۔ محبوبہ کے انتخابی امکانات انتہائی تاریک ہیں۔ لیکن مسلمانوں کی مظلومیت کی داستان جس کو وہ کیش کر رہی ہے انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے۔ محبوبہ بالکل وہی کر رہی ہیں جو نیشنل پینتھرس پارٹی (NPP) ادھم پور، جموں اور کٹھوعہ میں کرتی رہی ہے۔ وہ علاقائی اور مذہبی جذبات کو بھڑکا رہی ہے، جو بی جے پی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔
علاقائی اور مذہبی تفریق کے بیانیے کو آگے بڑھانے کے بعد بھی نیشنل پنتھرس پارٹی خالی ہاتھ ہے۔ اس نے ماضی میں ایک بھی سیٹ جیتنے میں ان کی مدد نہیں کی۔ محبوبہ کا یہ مذہبی بنیادوں پر مظلومیت کا کارڈ بی جے پی کو جموں خطے میں مضبوط کرنے میں مدد کرے گا۔ کشمیر کے علاقے میں محبوبہ واضح طور پر ہاری ہوئی ہیں۔ اس کے لیے امیدوار تلاش کرنا بھی مشکل ہے، کسی بھی سیٹ پر پارٹی امیدوار کے کامیاب ہونے چانس معدوم نظر آتے ہیں۔
دوسری جانب نیشنل کانفرنس کے پاس نظریاتی کارکنوں کی بھاری اکثریت ہے ، لیکن نوجوان نسل میں اس کو کوئی قبولیت حاصل نہیں ہے۔ کیونکہ وہ نیشنل کانفرنس کا کوئی مستقبل نہیں دیکھ رہے ۔ کشمیر کا ووٹر ایک پیچیدہ ووٹر ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ نئی دہلی سے محبت میں نہ ہوں، لیکن وہ اس کو ووٹ ضرور دیتے ہیں جس سے نئی دہلی محبت کرتا ہے۔ یہ سیاسی کھلاڑیوں جیسے پیپلز کانفرنس، اپنی پارٹی، نیشنل کانفرنس اور دیگر کے انتخابی امکانات کا تجزیہ کرنے کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here