گلو بندی کہاں ہے ؟ دم بند وادی ؟

335
گماشتہ گیر کشمیر پر کہانیاں بن رہے ہیں۔
کسی بھی جمہور ی نظام میں شہری اپنے مطالبات کے حق میں اور اپنی شکایات کو اجاگر کرنے کے لیے پرامن احتجاج کا اہتمام کرتے ہیں۔ جائز اجتماعی یا انفرادی مطالبات پر احتجاج ہی جمہوریت کا نچوڑ ہے۔ کشمیر بھی اس نظام سے مستثنیٰ نہیں ہے۔
اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد، زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد خاص طور پر مختلف سرکاری اور نیم سرکاری اداروں اور محکموں میں کام کرنے والے غریب مزدور اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے کئی مواقع پر اپنا احتجاج درج کراچکے ہیں۔ وہ سری نگر کے ساتھ ساتھ جموں میں بھی ہزاروں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں، جس کو وہ اپنے مطالبات کے لیے انتظامیہ کا نرم ردعمل قرار دیتے ہوئے احتجاج کر رہے ہیں۔بعض مواقع پر ایسے مظاہروں میں شرکت کرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں رہی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر، بڑی یا چھوٹی تعداد میں لوگ مقامی انتظامی اکائیوں کے خلاف فوری طور پر ان سے متعلق مسائل پر اپنا احتجاج درج کرواتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ ناقص سڑک رابطے، پانی اور بجلی کی ناقص فراہمی، ناقص طبی سہولت وغیرہ کے حوالے سے احتجاج کرتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں، بعض اوقات انہیں راشن اور کھانے کی اشیاء کی ناکافی دستیابی پر احتجاج کرتے دیکھا گیا ہے۔مقامی اخبارات، مقامی نیوز چینلز اور لوگوں کے لیے دستیاب رابطے کے دوسرے ذرائع روزانہ کی بنیاد پر ایسے واقعات کی رپورٹنگ کرتے ہیں۔ کسی نے بھی ان مظاہروں پر انگلی نہیں اٹھائی ،اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کرنا جمہوریت میں بنیادی حق ہے۔ لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ انتظامیہ کی ناکامیوں کو اجاگر کریں اور اس پر بر سر احتجاج ہوں
 
گماشتہ گیر امن کو جبری خاموشی کا نام دیکر کر داستان بنانے کی کوششوں میں مصروف کیوں ہیں۔
کشمیرمیں پاکستانی گماشتہ گیر مسلسل بیرونی دنیا کو یہ بیانیہ کیوں بیچ رہے ہیں کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد کشمیر کے لوگوں کو خاموش کر دیا گیا ہے؟ وہ کیوں اس طرح کے بیانے کو پیش کررہے ہیں کہ ریاست نے آزادی اظہار کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ سماج کا ہر طبقہ چاہے وہ طالب علم ہو، سرکاری ملازم ہو یا عام لوگ جو کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا کرتے ہیں چاہے کشمیر ہویا جموں ، ایسے افرادسڑکوں پر نکل آتے ہیں اور پرامن طریقے سے اپنی شکایات کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں۔ پھر یہ بیانیہ کیوں گھڑا جا رہا ہے کہ آوازیں دبا دی گئی ہیں؟
سیاسی اظہار پر بھی خاموشی نہیں ہے۔ سیاسی جماعتیں جہاں عوامی جلسوں کا انعقاد کرتی رہی ہیں وہیں وہ انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔ ہر روز کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت ریلیاں اور روڈ شوز کا اہتمام کرتی ہے۔ ان تقریبات میں لوگ بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔
مسخرگی کی انتہا! 
عمرنے صحافیوں کے ہجوم کے بیچ
 میڈیا کی جبراًخاموشی کا دعویٰ کیا۔
منافقت کی انتہا کا جائزہ لیں،نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ 12 دسمبر کو اننت ناگ ضلع کے ڈاک بنگلہ کھنہ بل میں ورکرز کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔ عمر نے الزام لگایا کہ کشمیر میں میڈیا کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے کی اجازت نہیں ہے۔حیرت انگیز طور پر، عمر نے یہ بات اس وقت کہی جب وہ تقریباً 20 مائیکروفون، تقریباً 20 کیمروں اور پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ صحافیوں کے ہجوم میں گھرے ہوئے تھے۔ نیشنل کانفرنس کی طرف سے اننت ناگ کے ڈاک بنگلہ میں منعقدکارکن ریلی میں، جس میں ضلعی ، بلاک اور دیہی سطح پر پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں نے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ این سی کے بڑے قائدین جیسے الطاف کلو، سید توقیر حسین، ایڈوکیٹ ریاض احمد خان، سکینہ ایتو اور دیگر نے اس میٹنگ میں شرکت کی۔ این سی قائدین نے کارکنوں سے خطاب کیا اور اپنےخیالات ان تک پہنچائے۔اس موقع پر اہم تقریر عمر عبداللہ نے کی۔ اس جلسے، جس میں سیاسی غیر معمولی تعداد موجود تھی ، پھر عمر عبداللہ کا یہ کہنا کہ سیاسی آوازیں خاموش کی جارہی ہیں ، بذات خود یہ دعویٰ کیا کتنا مضحکہ خیز ہے
گماشتہ گیر ،تشدد اورلہو کے پیاسے
پراکسیوں کو چین نہیں ملتا۔
جب تک وہ مردہ کشمیریوں کی نمبرشمار ی نا کریں
روتی مائیں، بلکتے خاندان ان کی بھوک مٹانے کے لیے ضروری!
میڈیا کے ایک حصے کی طرف سے دانستہ کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ کشمیر کے حوالے سے جھوٹ بولے اور اسے غلط رنگ میں پیش کرے۔ تعجب کی بات نہیں کہ یہ میڈیا سے وابستہ افراد پاکستان کے حامی ہیں اور علیحدگی پسند کیمپ کے نمک خوار ہیں۔
یہ میڈیا والے کیا چاہتے ہیں؟ کہ انتظامیہ تخریبی اور ملک دشمن عناصر کو امن و امان کی صورتحال میں بگاڑپیدا کرنے کی اجازت دے؟ کیا وہ چاہتے ہیں کہ احتجاجی ریلیاں تشدد اور میدان جنگ میں بدل جائیں؟ شاید واقعی یہ گماشتہ گیر ایسا ہی چاہتے ہیں۔ وہ کشمیر میں تشدد پیدا کرنے کے اس قدر عادی ہیں کہ انہیں پرامن احتجاج ایک آنکھ نہیں بھاتا۔
یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے اردگرد اس مسلسل جھوٹ کا جال دیکھ رہے ہیں کہ کشمیر میں لوگ احتجاج نہیں کر سکتے۔ لوگ اپنے مطالبات کے حق میں بھی احتجاج نہیں کر سکتے۔ کسی بھی احتجاجی ریلی کو صرف ایک ایجی ٹیشن کے طور پر دیکھا جاتا ہے یہاں تک نوجوان تشدد کا سہارا نہ لیں اور جوابی کارروائی میں وہ مر نہ جائیں۔ان پاکستانی پراکسیوں کو چین نہیں ملتا وہ مسلسل کشمیر میں حالات دگرگوں بنانا چاہتے ہیں۔
حیدر پورہ انکاؤنٹر کے بعد، لوگوں کے کچھ طبقے جیسے وکلاء اور سیاست دان ، اگرچہ بہت کم تعداد میں تھے – اس کے خلاف احتجاج کے لیے باہر آئے جسے انہوں نے شہری ہلاکتوں کا نام دیا۔ ان مظاہرین میں کچھ جانے پہچانے چہرے بھی تھے یہ افراد یا تو نظریاتی طور پر انتہا پسندی کی طرف مائل ہیں یا کشمیر میں پرتشدد تنازعہ کے مددگار رہے ہیں۔ یہ وہ وکلاء اور سیاستدان ہیں جنہوں نے حیدر پورہ انکاؤنٹر کے بعد کم شدت کے احتجاج میں حصہ لیا۔
یہاں پر حیدر پورہ انکاؤنٹر کو یاد کرنا مناسب ہوگا دراصل یہ واقعہ 15 نومبر کو پیش آیا تھا جس میں ایک غیر ملکی دہشت گرد بلال تین دیگر افراد کے ساتھ مارا گیا ۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس غیر ملکی دہشت گرد کے ساتھ مارے جانے والے دیگر افراد بلال کے دو ساتھی تھے۔ تیسرا عمارت کا مالک تھا جو کراس فائر میں مارا گیا ۔
پاکستانی ٹٹوں کے خلاف ریاستی کارروائی کیوں ضروری ہے؟
 علیحدگی پسند ی ابھارنے اور ذہنوں کو آلودہ کرنا۔
ملک کو کمزور کرکے غیر موثر طاقت کے طور دیکھا جاتا ہے
شہریوں کے جان اور مال کی حفاظت بھی تو سرکاری زمیہ داری ہیں۔
24 اکتوبر کو کچھ لوگوں نے T-20 ورلڈ کپ کے میچ میں بھارت کے خلاف پاکستان کی جیت کا جشن منایا۔ انہوں نے بھارت مخالف نعرے لگائے اور پاکستان کا قومی ترانہ بھی گایا۔
کشمیر کے کئی حصوں میں فتح کا جشن منایا گیا۔ لیکن گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر کے گرلز ہاسٹل اور شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سری نگر کے بوائز ہاسٹل نے جشن کی قیادت کی، ان جڑواں واقعات، – حیدر پورہ تصادم اور پاک بھارت میچ کے بعد ہونے والی تقریبات نے علیحدگی پسند عناصر کو گہری نیند سے جاگنے کا حوصلہ دیا۔
یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگوں نے، جو زمینی صورتحال کا احساس رکھتے ہیں یہ مشورہ دیا کہ حکومت کو ان طالبات کوخارج کرنا چاہیے،جو کرکٹ میچ میں پاکستان کی جیت کے بعد پاکستانی ترانہ گانے میں سرفہرست تھیں۔ یہ ضروری تھا کہ ان کے داخلے منسوخ کر دیے جائیں۔نام نہاد غریب اور معصوم میڈیکل طلباء کے خلاف کارروائی کی مذمت کرنے والے کشمیر جیسے حساس خطے میں اس طرح کے احتجاج کے اثرات سے آنکھیں موندھ کر بیٹھے ہیں۔ اس طرح کی “آزادی اظہار” کو معاف کرنے میں ملک کی عظمت کو ملک کی کمزوری سمجھ لیا گیا ہے۔
“معمولی اشتعال انگیزیوں” کو معاف کرنے کے اثرات”
جب ملک کسی اشتعال انگیزی کا جواب نہیں دیتی ہے تو لوگ ملک کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے ہیں۔ جب ملک کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جائے تو ایک داستان رقم کی جاتی ہے جس کی رو سے ایسا بیانیہ پیش کیا جاتا ہے کہ حکومت کا نہ کوئی اختیار ہے اور نہ کوئی کنٹرول۔ ایسابیانیہ مزید دعویٰ کرتا ہے کہ حکومت مطابقت اور اعتبار کھو چکی ہے۔ یہ علیحدگی پسندی ہے جو دلوں پر راج کرتی ہے۔
یہی صورتحال گزشتہ 30 برسوں سے رہی ہے، جب اس طرح کی غلطیوں کو نظر انداز کیا جاتا تھا۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ ملک کی عظمت کے بعد لوگوں نے علیحدگی پسندی اور انتہا پسندانہ سیاست کا پرچار کیا۔ اور بدلے میںحکومت سے حاصل ہونے والے تمام فوائد سے لطف اندوز ہوتے رہے۔
عوام پر گہرے نفسیاتی اثرات
 حکومت کے تمام جرائم کو نظر انداز کرنے کے فیصلے نے کشمیر کی اجتماعی نفسیات پر گہرا اثر ڈالا۔ اس کا اثر گہرا اور دیرپا رہا ۔ حکومت کی تمام خرابیوں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی نے ایسے سماجی اثرات مرتب کیے ہیں جہاں ہر چیز کو حق کے طور پر لیا جاتا ہے۔ بغاوت کو حق کا معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ ملک اور اس کے اداروں کو بدنام کرنا حق کی بات ہے۔ ملک اور اس کے مفادات کے خلاف جانا حق کی بات ہے۔ یہاں تک کہ شہری قوانین پر عمل نہ کرنے کو بھی حق کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
امن پسند عوام کی آزادی اظہار رائے پر سمجھوتہ کئے بغیر ملک کی سالمیت اورخود مختاری پرکوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے ۔یہ تسلیم ہے کہ ہر شہری کو حکومت اور اس کے اداروں پر تنقید کرنے کا حق ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ بھی ملک کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس لیے ملک کو کمزور کرنے اور شہریوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف سخت اور مناسب کارروائی وقت کا تقاضا ہے ۔
کرکٹ میچ اور حیدر پورہ کے ان دوہرے واقعات کے بعد چند سیاست دانوں اور میڈیا کے ایک حصے کی آشیرباد حاصل کرنے والے انتہا پسند عناصر تشدد کے کلچر کو زندہ کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ وہ ایک بار پھر سڑکوں پر تشدد پیدا کرنا چاہتے ہیں جہاں نوجوان مرتے ہیں اور خاندان روتے اور ماتم کرتے رہتے ہیں۔ وہ تشدد کے اس تانڈو کو پھر بحال کرنا چاہتے ہیں جہاں عسکریت پسندی کو رومانوی شکل دی جاتی ہے اور زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو اس کی صفوں میں شامل ہونے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
یہ پاکستانی پراکسی عسکریت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والے ہر ایک مقابلے کو ختم کرنے کے لیے موٹی فنڈنگ ​​حاصل کرنے کے لیے آرام دہ، پرتعیش جگہوں پر بیٹھتے ہیں۔ ایک اچھی طرح سے ڈیزائن کی گئی اسکیم کے حصے کے طور پر، مائیک اور کیمرے عام راہگیروں کے سامنےکئے جاتے ہیں جنہوں نے آپریشن کا مشاہدہ کیا ہو۔ ان لوگوں کو ان عسکریت پسندوں کے پروفائل کی کوئی سمجھ نہیں ہے جو مارے گئے یا جس طرح انہوں نے معصوم شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کیا۔ اس کا بھی ان لوگوں کوئی علم نہیں ہوتا۔لیکن پراکسیوں کی حکمت عملی اپنا کام کرتی رہتی ہے ۔ خواتین کواشتعال دلا کر انہیں اکسایا جاتا ہے ۔بھلے ان آپریشنوں کے دوران خطرناک دہشت پسندپسند مارے گئے ہوں وہ بے خبر خواتین یہ نہیں جانتی ۔ الشات میں موجود بدمعاش پھر پوری طاقت کے ساتھ سامنے آتے ہیں، انکاؤنٹر کی جگہ کے مناظر کو اپ لوڈ کرتے ہیں اور اسے جعلی مقابلے کے طور پر بین الاقوامی برادری کو بیچ دیتے ہیں۔اس رجحان کو روکنے کی اشد ضرورت ہے ۔ پاکستانی پراکسیوں کی کوششوں کو ناکام بنانا ضروری ہے۔ تاکہ امن قائم ہوسکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here