ڈل جھیل کے گرد گرین بیلٹ میں غیر قانونی تعمیرات جاری ہیں

341

 ریاست کو ان لوگوں کے خلاف سخت اقدامات کرنے اٹھانے چاہئے جو اس کی قدرتی خوبصورتی کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں اور جو لوگ ناجائز استعمال کرنے دے رہیے ہیں۔

2006میں نئی دلی میں مقیم امریکی سفیر ڈیوڈمولفورڈ نے کہا تھا کہ کشمیر کی سیاست بھی ” ڈل جھیل کی طرح آلودہ ‘ ‘ہے۔ڈیڑھ دہائی گزرنے کے بعد  بھی سری نگر کا فخر کہلائے جانے والے جھیل ڈل کی حالت انتہائی ابتر اب بھی ہے ۔اس بات کا اندازہ کشمیر یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی اس تحقیق سے لگائے جس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ دنیا کی حسین جھیلوں میں سے ایک ڈل جھیل کا محض 20فی صد پانی ہی قدرے صاف تھا جبکہ 32فی صد انتہائی آلودہ ۔سال1986میں اربن انجینئرنگ انوائرمنٹ ڈویژن ( یو ای ای ڈی ) کی طرف سے کیے گئے سماجی و معاشی سروے میں  اور 2000 میں این آئی ٹیRoorkee  نے جو تفصیلی رپورٹ مرتب کی  تھی کے مطابق یہ بات سامنے ایی تھی کہ جھیل کے پانیوں پر ٹھہرے ہاوس بوٹ روزانہ 0.8 ملین لیٹر فضلہ پیدا کرتے ہیں جبکہ ڈل کے اردگرد کی آبادی روزانہ 5 ملین لیٹر فضلہ خارج کرتے ہیں جبکہ مفصلات کی آبادی روزانہ 44.2 ملین لیٹر فضلہ خارج کرتی ہے ۔ یہاں پہ یہ بات قابل ذکر ہے سال 1997میں ڈل جھیل کے تحفظ اور رکھ رکھاو کیلئے ایک جامع پروجیکٹ متعارف کرایا گیا۔مذکورہ منصوبے کے دو جز تھے ۔(1)ڈل کا مکمل تحفظ (2) ڈل جھیل میں رہنے والوں کی بازآباد کاری ، پروجیکٹ کے نفاذ کی خاطر لیکس اینڈ واٹر ویز اتھارٹی (LAWDA) نے شہر سرینگر کے مضافات بمنہ اور رکھ آرتھ ری سٹلیمنٹ کالونی میں مختلف سائز کے پلاٹ تیار کرنے کا منصوبہ ترتیب دیا ۔اور ڈل میں رہنے والوں کی منتقلی شروع  کی تھی۔اسی اثنا میں حکومت نے شہر سرینگر کے دیگر انتہائی اہمیت کے حامل علاقوں جن میں نگین جھیل ، شالیمار ، نشاط باغ جیسے تاریخی اور تذویری علاقے شامل ہیں کی از سر نو حدبندی بھی کرائی۔لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ڈل کے تحفظ کی خاطر قائم متعلقہ محکمہ کے عہدیدار قزاق بن گئے اور ان کی چھتر چھایا میں پورے گرین بلیٹ میں تعمیرات کا نہ تھمنے والاسلسلہ بلا کسی خوف و خطر اور روک ٹوک کے جاری رہا ۔

غیر مجاز ڈھانچوں کی مسماری ،محکمہ کی ڈینگ

ذرائع کا کہنا ہے کہ بارسوخ گھرانے بلاکسی تردد کے گرین بلیٹ میں نئے گھروں کی تعمیراور پرانے ڈھانچوں کی آرائش و تزئین میں مگن ہیں۔ جبکہ متعلقہ اتھارٹی دکھاوے کیلئے غریبوں اور کمزور وں کے خلاف کارروائی کرتی ہے جس کا ڈھنڈورا بہت بڑے پیمانے پر پیٹا جاتا ہے ۔ ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ لاوڈا کے افسران ایسی تعمیرات کی اجازت دینے کے عوض بھاری رقومات طلب کرتے ہیں اور لوگ ان کی طلب کو پورہ بھی  کرتے ہیں ۔ اگرچہ کچھ مالکان جو اس طرح کی تعمیراتی سرگرمیوں میں ملوث ہیں ،کے خلاف فرضی ایف آئی آر درج کرتے تو ہیں۔ لیکن پھر لاوڈا کے عہدیدار تھوڑی سی تعمیر کو چشم پوشی کے طور پر منہدم کرتے ہیں۔ اس کے بعد ، مکان مالکان کو باری رقم کے عوض اجازت بھی دیتے ہے اور وہ پھر اپنی مرضی کے مطابق تعمیر کو جاری رکھتیں ہیے۔ آج تک کوئی غیر قانونی ڈھانچہ مکمل طور پر مسمار نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس کی تکمیل ہونے سے روکا گیا۔

جب KZINE نے ڈل جھیل سے ملحقہ گرین بیلٹ کے رہائشیوں سے ملاقات کی تو انہوں نے قبول کیا کہ وہ غیر قانونی تعمیرات کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایسا کرتے رہیں گے ، اس کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ بھی نہیں ہیے۔

جب KZINE نے یہ سوال LAWDA کے وائس چیئرمین ڈاکٹر بشیر احمد بٹ سے کیا تو انہوں نے مذکورہ نمائندے کی بات سے اتفاق نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب صرف الزامات بے بنیاد ہیں۔

٭ لوگ نقل مکانی کیوں نہیں چاہتے؟

رکھ آرتھ ری سیٹلمنٹ کالونی میں منتقل نہ ہونے کی مختلف وجوہات پیش کیےجاتے  ہیں۔

  1. لوگ کہتے ہیں کہ انہیں اپنی اراضی کی معقول قیمت نہیں مل رہی ہے۔

2۔ وہاں ان کو زمیں کے برابر  سے زمین کم نہیں مل رہی ہیں۔

  1. لوگ بمنہ علاقے سے خوش نہیں ہیں۔
  2. شکارا والے ڈرتے ہیں کہ اگر وہ کسی نئے مقام پر شفٹ ہو گئے تو یہ ان کے کاروبار کو متاثر کرے گا۔ مثال کے طور پر ، اگر کوئی گاہک دیر سے آتا ہے تو ، وہ اس کی خدمت کیلئے حاضر نہیں ہوسکتے ہیں۔

ڈپٹی ایس پی انفورسمنٹ (LAWDA)عبدالعزیز قادری نے کہا ک ہ LAWD کی 4 شاخیں ہیں۔ ان میں سے ایک انفورسمنٹ ڈیپارٹمنٹ ہیے جہاں پہ انہیں تعینات کیا گیا ہیے۔ اور اپریل کے مہینے سے انہوں نے چارج سنبھالا تب سے ان کے  ڈیپارٹمنٹ نے 294 ڈھانچے مسمار کیے ہیں ، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف 156 ایف آئی آر بھی درج کئے گئے ہیں۔ 5 ٹرک اور 3 ڈھانچوں کو ضبط کر لیا گیا ہیں۔ اور انہوں نے مزید تفصیلات دیتے ہیوئے یہ بھی کہا کہ “ہم صرف انہی ڈھانچوں کو مسمار کر سکتے ہیں جن کے لیے مالکان نے لاوڈا سے اجازت نہیں لی ہے۔ اوراگر مالکان کے پاس باضابطہ اجازت نامہ ہیے تو وہ ڈھانچے گرانے کا اختیار ان کے پاس نہیں  ہیے۔

۔ LAWDA کے وائس چیئرمین ڈاکٹر بشیر احمد بٹ کی KZINE کے ساتھ گفتگو کرتے ہویئں اس بات کی تائید کی کہ “ڈل جھیل اور اس کے ارد گرد کوئی غیر قانونی تعمیر نہیں ہے”

۔ LAWDA کے وائس چیئرمین ڈاکٹر بشیر احمد نے مزید کہا کہ اس  سال گرین بیلٹ ایریا میں ڈل جھیل کے ارد گرد 200 سے زائد غیر قانونی ڈھانچے مسمار کیے ، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں ہیے۔

جب  ڈاکٹر بشیر صاحب سے ہم نے پوچھا کہ بحالی کے منصوبے کے مطابق کتنے خاندانوں کو منتقل کیا گیا ہے؟

اب تک اس سکیم کے ذریعے 3260 خاندانوں کی باز آباد کار کی جا چکی ہے ، اور 5700 خاندانوں کا ڈل جھیل سے منتقل ہونا باقی ہیں ابھی۔

 ان سب کو منتقل کیوں نہیں کیا گیا؟

بعض مسائل کی وجہ سے انہیں ابھی تک منتقل نہیں کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک 2014 کا سیلاب کے وجہ سے بازآبادکاری پروگرام کے اس منصوبہ پہ جو وزیر اعظم بحالی پروگرام (PMRP) کے تحت سردست لیا گیا تھا۔سست رفتاری کا شکار ہوا۔ اور اس 356 کروڑ روپے کا منصوبہ جو 2012 میں شروع ہوا تھا شروع ہوتے ہی اس کی چمک کھو گی۔اور پھر اس منصوبے کے تحت کسی بھی یہاں  پہ رہنے والے باشندے کےساتھ کوئی زبردستی نہیں کی جاسکتی ہے اور نہ ہی طاقت کے بل پر کسی کو ادھر سے نکالا جاسکتا ہیں۔اس کا فیصلہ ڈویژنل کمشنر کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔سیلاب سے قبل یہ پروگرام مجموعی طور نافذ العمل تھا جہاں ،ہم ایک بڑے گروپ کو کسی علاقے سے شفٹ کردیتے تھے ۔لیکن 2014کی طغیانی کے بعد یہ عمل رک گیا ۔دوسری جانب حکومت اور ہائی کورٹ نے ڈھانچوں کی تعمیر نو پر امتناع جاری کیا ہوا ہے ۔ادھر سیلاب کے تعلق سے قریب 4704تحفظات پیش کئے گئے ہیں ،جس پر اعلیٰ سطحی کمیٹی میں بحث و تمحیص بھی کافی زیادہ ہوئی۔ گزشتہ دو تین برس میں ، ماہرین کی ایک کمیٹی نے تجویز دی کہ بحالی کو روک دیا جائے کیونکہ اینٹی کرپشن بیوروچند کمیٹیوں کی تحقیقات کر رہا ہے۔ اب ہم نے حال ہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی اور بحالی کا پروگرام دوبارہ شروع کر رہے ہیں۔

 علاقہ کے باشندے اس اقدام کا جواب کس انداز میں دے رہے ہیں؟

یہ ایک رضاکارانہ مشق ہے۔ ہم کسی پرزور زبردستی نہیں کر سکتے۔ رکھ آرتھ کالونی میں بازآبادکاری کے عمل میں کچھ رکاوٹیں ہیں۔ کچھ کہہ رہے ہیں کہ اس زمین کی کم قیمت ہے۔

1986 میں ، یو ای ای ڈی (اربن انجینئرنگ انوائرمنٹ ڈویژن) کی طرف سے ڈل جھیل پر ایک سماجی و معاشی سروے کیا گیا ، جو اس وقت ڈل جھیل کی نگرانی کرتا تھا۔ فیملی ممبروں کی تعداد کے حساب سے ڈھانچے کو نمبر الاٹ کیے گئے تھے اور یہ اب بھی جاری ہے۔ PMRC سروے الگ سے کیا گیا۔ ایک فیملی کو 7 مرلہ کا ایک پلاٹ ملتا ہے۔ ڈھانچے کا معاوضہ R&B شیڈول کے مطابق دیا جاتا ہے ، اور 1.5 کنال کے لیے 3.6 لاکھ روپے معاوضہ بھی دیے جاتے ہیں۔

 اگر اسکیم تمام اسٹیک ہولڈرز کے مطابق نہیں ہے اور گورنمنٹ کو ان اس پر عمل کرانا مشکل ہورہا ہیےتو اب تک پالیسی پر نظرثانی کیوں نہیں کی گئی؟

ہم ان لوگوں کی درخواستیں لے رہے ہیں جو ہمارے پاس Rehabilitation کے لیے آتے ہیں۔ کچھ نئے مطالبہ بھی ہیے لوگوں کے لیکن ہمارے پاس وسائل محدود بھی ہیں ۔اور پھر دیکھتے ہیں کیا امکانات کے دائرے میں ہیے۔

 جناب ، گرین بیلٹ علاقوں میں تعمیر کی اجازت کون دیتا ہے؟

گرین بیلٹ علاقوں میں کوئی تعمیر نہیں کی جا سکتی۔ ان علاقوں میں کی جانے والی تعمیرات غیر قانونی ہیں اور ہم ان ڈھانچوں کو باقاعدگی سے مسمار کرتے ہیں۔

جناب ، جب ہم اس علاقے میں  گھومے تو ہمیں بہت سے غیر قانونی ڈھانچے حال ہی میں تعمیر شدہ ملے اور کچھ لوگوں کو تعمیراتی کاموں میں مصروف بھی دیکھا۔ اور ساتھ ساتھ ہی مقامی باشندے یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ تعمیرات کر رہے ہیں اور اس وقت تک کرتے رہیں گے جب تک کہ حکومت ان کے مطالبات کے حوالے سے کچھ ٹھوس اقدامات نہیں کرتی۔

پچھلے دو سالوں میں 715 ڈھانچے مسمار ہم نے مسمار کیے ہیں۔ ڈاکٹر بشیر احمد بٹ نے کہا۔

 کیا کرنے کی ضرورت ہے؟

11 ستمبر کو شائع ہونے والے اپنے 13 ویں ایڈیشن میں ، KZINE نے مختلف مقامات پر ڈل جھیل کی خراب حالت کو اجاگر کیا تھا۔

29 ستمبر کو ہائی کورٹ نے LAWDA کو ہدایت دی کہ وہ ایک اسکیم کی طرز پر آگے بڑھے اور ڈیلنگ ، ڈریجنگ اور ڈل میں تمام نالوں اور کچرے کے بہاو کو روکنے پر توجہ دے۔ ہائی کورٹ نے LAWDA پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ڈل جھیل اور اس کے آس پاس کوئی تجاوزات نہ ہوں۔

2 اکتوبر کو ، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے کہا کہ “اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ڈل جھیل کو اس طرح صاف کرنے کے لئے جتنی توجہ کی ضرورت تھی نہیں دی گی ، لیکن اب یو ٹی انتظامیہ مناسب صفائی کو یقینی بنانے کے لیے مزید مشینیں لارہی ہیں۔ کچھ ہی ہفتوں  میں۔”

۔LAWDA حکام جھیل میں جمع ہونے والی گندگی اور دیگر فضلاء کے بارے میں آگاہ پہلے سے ہی ہیں۔ لیکن پھر بھی سیوریج کامناسب استعمال نہیں ہورہا ہیں۔ وہ بازآبادکاری سکیم میں درپیش رکاوٹوں سے بھی آگاہ ہیں۔ لیکن پھر بھی ان مسائل کی طرف توجہ نہیں دی جارہی ہیں۔ جس کے

وجہ سے کروڑوں روپیہ خرچ تو ہورہیے  ہیے ۔لیکن کویئ خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل رہا ہیں۔ جس مستعدی سے کام کرنے کی ضرورت ہیے اس میں ہی کمی ہیں۔

ڈل جھیل اور اس کے ارد گرد غیر قانونی تعمیرات کی لعنت کو ختم کرنا وقت کی اہم  ضرورت ہے۔ ذمہ داری ان افسران دی جانی چاہیے جو ڈل کی بچاو کو قومی فریضہ سمجھ کر کام کرے نہ کہ ان افسروں کو جنہوں نے اج تک اپنی ڈیوٹیوں کو کبھی صحیح طریقے سے انجام نہیں دیا ، اور ڈل کو تباہی کے دہانے پہ پہچانے کا سبب بنے۔ LAWDA کے عملے کی تنخواہ ، انکریمنٹ اور ترقیاں ڈل جھیل کی بہتری سے مشروط ہونی چاہئیں۔ غیر قانونی تعمیرات کرنے والوں کے لیے سخت قوانین ہونے چاہئیں۔ ڈل جھیل سرینگر کاشان ہے۔ حکومت کو ان لوگوں کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں جو اس کی قدرتی خوبصورتی کو مسمار کرنے پہ تلے ہویئں ہیے۔ اور جو انکو ایسا کرنے دے رہیے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here